واشنگٹن (شِنہوا) دوسری جنگ عظیم میں 80 سال سے زائد عرصے قبل چینی اور امریکی افواج جاپانی جارحیت کے خلاف شانہ بشانہ کھڑی ہوئی تھیں۔اس حوالے سے واشنگٹن میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے جنگ کے دوران قائم ہونے والے اس رشتے کو خراج تحسین پیش کیا اور مشترکہ جدوجہد کی اس وراثت کو اجاگر کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں چینی صدر شی جن پھنگ کا استقبال کیا تو جنگ کے دور کی تاریخ کی یاد مشترکہ یادداشت میں تبدیل ہوگئی، جبکہ شی نے یاد دلایا کہ کس طرح دونوں عوام کبھی فسطائی جارحیت کے خلاف شانہ بشانہ کھڑے ہوئے تھے۔
شی نے مشترکہ تاریخی ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے جنگ کے دوران قائم ہونے والے گہرے تعلقات پر روشنی ڈالی۔
شی نے کہا، “دوسری جنگ عظیم کے دوران چینی اور امریکی عوام فسطائی جارحیت کے خلاف شانہ بشانہ لڑے۔ چینی عوام تاریخ کے اس حصے کو کبھی نہیں بھولے اور نہ ہی امریکی عوام نے اسے بھلایا ہے۔”
ٹرمپ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران چین اور امریکہ کی اتحادیوں کی حیثیت سے ایک ساتھ لڑنے کی تاریخ کو یاد کرتے ہوئے مشترکہ جنگی یاد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، “پوری تاریخ میں ان مشترکہ مفادات کی جستجو نے ہمارے عوام کو وسیع سمندروں، ان بڑے اور زبردست فاصلوں اور بہت سے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے سے جوڑے رکھا اور یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم میں ہمیں اتحادی بنا دیا۔”
ٹرمپ نے فلائنگ ٹائیگرز، جنہیں سرکاری طور پر چینی فضائیہ کا امریکن والنٹیئر گروپ کہا جاتا ہے، کو چینی فوجیوںں اور شہریوں کے ساتھ جاپانی حملے کے خلاف مشترکہ جنگ میں ان امریکی پائلٹس کی بہادری پر خراج تحسین پیش کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ “یہ امریکی میرینز کا چینی عوام کے ساتھ رابطہ تھا جس نے میرینز کو ایک چینی اصطلاح اپنانے کی تترغیب دی جسے وہ آج بھی استعمال کرتے ہیں، اور یہ ’گنگ ہو‘ ہے۔”
ٹرمپ نے کہا، “میرینز اسے زبردست جوش و خروش کے اظہار کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لیکن چینی زبان میں اس کا لفظی مطلب مل کر کام کرنا ہے۔”
“گنگ ہو” کی اصطلاح چینی صنعتی امدادی تعاون تحریک سے نکلی، جسے “گنگ ہو” تحریک بھی کہا جاتا ہے، جو چین کی جنگی کوششوں میں مدد کے لیے 1930 کی دہائی کے اواخر میں شروع کی گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا، “جس طرح ہمارے عوام نے اس جنگ کو جیتنے کے لیے مل کر کام کیا، اسی طرح صدر شی اور میں دونوں ممالک کے لیے ایک بہتر مستقبل تشکیل دینے کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔”
ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے سرکاری عشائیے میں شی نے ایک لمحہ میں ہَمپ روٹ کی کہانی بیان کی۔
شی نے کہا، “80 سال سے زائد عرصے قبل چینی اور امریکی عوام جاپانی عسکریت پسند جارح کے خلاف جنگ میں شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔ ہم نے مل کر ہمالیہ کے اوپر سے مشہور ہَمپ فضائی راستہ کھولا۔ جاپانی جارحیت کے خلاف مزاحمتی جنگ کے دوران چینی فوجیوں اور شہریوں نے لاکھوں چینی جانوں کی قیمت پر سینکڑوں امریکی پائلٹس کو بچایا۔”
فلائنگ ٹائیگرز نے ہَمپ روٹ کو کھولنے اور محفوظ بنانے میں مدد کی، جو ہمالیہ کے اوپر سے گزرنے والا ایک اہم فضضائی راستہ تھا اور چین کے لیے جنگ کے دوران ایک اہم امدادی راستہ بن گیا۔ 1942 سے 1945 تک یہ راستہ اتحادی افواج کی جانب سے چین کی جاپانی جارحیت کے خلاف مزاحمت میں مدد کے لیے سامان رسد پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ رہا۔
جنگی اتحاد پر یہ توجہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر جاپان کی وزیر اعظم سانے تاکائچی کی دو روز قبل ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے فوراً بعد سامنے آئی۔
چینی صدر اور ٹرمپ کادوسری جنگ عظیم میں جاپانی جارحیت کے خلاف چین، امریکہ کی مشترکہ جنگ کی تاریخ کو خراج تحسین



