اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے اور سعودی عرب کے خلاف کسی بھی کارروائی پر پاکستان مکمل یکجہتی کے ساتھ سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے کیا اور امن کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے سورۃ الانفال کی آیت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں شامل ہے۔
سعودی عرب پر حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔
وزیراعظم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ کسی ملک کے خلاف اتحاد نہیں بلکہ خطے میں دفاع، امن اور استحکام کے لیے تینوں ممالک کے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی افواج نے بھارتی حملے کا جواب دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ہونے والی کوششوں سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم ہوئی اور لاکھوں افراد کی جانیں بچیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کو دوبارہ ایسی صورتحال سے بچانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ رائے دہی دیا جانا چاہیے، جبکہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے وزیراعظم نے بھارت کے یکطرفہ اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
فلسطین کے معاملے پر وزیراعظم نے غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو آزادی اور اپنے مستقبل کے تعین کا حق حاصل ہے۔ وزیراعظم نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف نے لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلے کا سیاسی حل ضروری ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔
وزیراعظم نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال کا معاملہ بھی اقوام متحدہ میں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنۃ الہندوستان (بی ایل اے) افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، اس لیے افغان حکام کو ایسے عناصر کے خلاف فوری اقدامات کرنے چاہییں۔
حرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے: وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب



