چینی صدر اور ٹرمپ کی ملاقات سے چین-امریکہ تعلقات کے لئے نئی تزویراتی رہنمائی فراہم ہوئی

واشنگٹن (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے امریکہ کے سرکاری دورے میں جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقاتوں کا ایک بھرپور سلسلہ جاری رکھا جس میں استقبالیہ تقریب، باضابطہ ملاقات اور سرکاری عشائیہ شامل تھا۔دونوں رہنماؤں نے مختلف امور پر مخلصانہ اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور متعدد معاملات پر اتفاق کیا، جس سے چین اور امریکہ کے درمیان تزویراتی استحکام پر مبنی تعمیری تعلقات میں مزید پیش رفت ہوئی اور دونوں ممالک کے تعلقات کے لئے نئی تزویراتی رہنمائی فراہم ہوئی۔وائٹ ہاؤس میں استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ مل کر چین اور امریکہ کے تعلقات کو مستقبل کی جانب مستحکم راستے پر گامزن کرنے کے لئے تیار ہوں۔ شی جن پھنگ کا یہ دورہ ٹرمپ کے گزشتہ مئی میں چین کے سرکاری دورے کے چھ ماہ سے بھی کم عرصے بعد ہو رہا ہے اور اس دورے میں دونوں صدور نے چین اور امریکہ کے درمیان تزویراتی استحکام پر مبنی تعمیری تعلقات استوار کرنے پر اتفاق کیا تھا۔بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کے دوران شی جن پھنگ نے اس تصور کو عملی شکل دینے اور دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے کا درست طریقہ تلاش کرنے پر زور دیا۔شی جن پھنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایسے تعلقات کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے جن میں تعاون بنیادی حیثیت رکھے، مقابلہ محدود ہو، اختلافات کو دور کیا جائے اور امن کا عزم برقرار رہے۔شی نے کہا کہ چین اور امریکہ کو عملی تعاون کے ذریعے باہمی مفاد اور باہمی کامیابی حاصل کرنی چاہیے، صحت مند مسابقت کے ذریعے ایک دوسرے کی کامیابی میں مدد دینی چاہیے، مشترکہ نکات تلاش کرتے ہوئے اختلافات کا احترام کرنا چاہیے اور باہمی اعتماد کو فروغ دے کر امن قائم کرنا چاہیے۔ اس طرح چین اور امریکہ کے درمیان تزویراتی استحکام پر مبنی تعمیری تعلقات دونوں ممالک کے عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کے لئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور شی جن پھنگ اچھے دوست ہیں اور دونوں کے درمیان گہرا اور قریبی رابطہ برقرار رہا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں سربراہان مملکت کی قیادت میں چین امریکہ تعلقات کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔شی جن پھنگ کے سرکاری دورے کے لئے انتہائی باریک بینی سے کئے گئے انتظامات، جن میں ہر تفصیل کا خیال رکھا گیا، اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ٹرمپ نے شی کے دورے کو کتنی اہمیت دی۔ایک روز قبل ہوائی اڈے پر خود شی جن پھنگ کا استقبال کرنے کے بعد ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں شاندار استقبالیہ تقریب کی میزبانی کی۔شی جن پھنگ اور ان کی اہلیہ پھنگ لی یوآن نے امریکی صدر اور ان کی اہلیہ کے ہمراہ امریکی میرینز کی جانب سے پیش کیا گیا مظاہرہ دیکھا۔ تقریب میں فوجی پریڈ بھی شامل تھی جس کے دوران امریکی مسلح افواج کے مختلف دستوں نے روایتی مشقیں پیش کیں اور دھنیں بجائیں۔ چینی اور امریکی صدور اور ان کی بیگمات کے اعزاز میں متعدد جنگی طیاروں نے وائٹ ہاؤس کے اوپر سے پرواز بھی کی۔مذاکرات کے بعد دونوں صدور اور ان کی بیگمات سرکاری عشائیے میں دوبارہ اکٹھے ہوئے۔ عشائیے کی تقریب کے ہال کو سرخ پھولوں اور سرخ میز پوشوں سے سجایا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس انتخاب میں سرخ رنگ کی چین میں طویل عرصے سے جاری ثقافتی اہمیت کو مدنظر رکھا گیا۔ٹرمپ کی جانب سے دیئے گئے سرکاری عشائیے میں شی جن پھنگ نے کہا کہ چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں چینی اور امریکی صدور نے ایک دوسرے کے ممالک کے سرکاری دورے کئے ہیں جس سے ہمارے باہمی روابط میں تاریخ رقم ہوئی ہے۔امریکی سکالر رابرٹ لارنس کوہن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے لئے سب سے مضبوط پیغام یہ ہے کہ دنیا کے دو انتہائی بااثر بڑے ممالک کے رہنما اگرچہ کھلے طور پر ایک دوسرے سے مسابقت رکھتے ہیں لیکن پھر بھی ہم آہنگی اور اچھے جذبے کے ساتھ ملاقات کر سکتے ہیں اور یہی اس دورے کی سب سے نمایاں کامیابی ہے۔مئی میں بیجنگ سے ستمبر میں واشنگٹن تک چین اور امریکہ کے باہمی روابط میں عملی تعاون بدستور ایجنڈے میں نمایاں رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ خلوص کے ساتھ تعاون کریں۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کا تعاون دنیا کے ہر مسئلے کو حل نہیں کرسکتا تاہم بہت سے مسائل ایسے ہیں جنہیں دونوں ممالک کے تعاون کے بغیر حل کرنا مشکل ہوگا۔ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے دوران شی جن پھنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معیشت سے متعلق مشاورت کے تازہ دور میں ایک نئے مشترکہ انتظام پر اتفاق ہوا ہے جو دونوں ممالک کی صنعتوں اور عوام کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے لئے بھی اچھی خبر ہے۔شی جن پھنگ نے کہا کہ تعاون دو طرفہ عمل ہے۔ اگر دونوں ممالک برابری، باہمی احترام اور باہمی مفاد کے جذبے کو برقرار رکھیں تو مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ریاستی عشائیے میں دونوں ممالک کے درمیان وسیع اقتصادی تعلقات کی ایک اور جھلک بھی دیکھنے کو ملی۔ عشائیے میں ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبوں کی بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان سمیت اہم شخصیات شریک ہوئیں۔ ان میں بعض وہ شخصیات بھی شامل تھیں جو مئی میں ٹرمپ کے ہمراہ بیجنگ گئی تھیں جن میں این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ اور ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک شامل تھے۔مصنوعی ذہانت (اے آئی) بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان زیر بحث آنے والے اہم موضوعات میں شامل تھی۔شی جن پھنگ نے کہا کہ اگرچہ چین اور امریکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت کر رہے ہیں تاہم دونوں ممالک کے پاس تعاون کی اس سے بھی زیادہ وجوہات موجود ہیں۔ انہوں نے اے آئی کے شعبے میں دنیا کی دو بڑی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے سے محتاط رہنے کے بجائے اپنی اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ریاستی عشائیے کے دوران دونوں صدور نے چینی اور امریکی عوام کے درمیان دیرینہ روابط کی تاریخ کا ذکر کیا اور عوامی سطح پر رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔شی جن پھنگ نے یاد دلایا کہ 80 سال سے زائد عرصہ قبل چینی اور امریکی عوام نے جاپانی عسکریت پسند جارحیت کے خلاف جدوجہد میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا تھا جبکہ نصف صدی سے زائد عرصہ قبل پنگ پونگ سفارت کاری نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے دروازے دوبارہ کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے امریکی شہری رونالڈ ساکولسکی کی کہانی بھی سنائی جنہوں نے 20 سال سے زائد عرصہ قبل چین میں صحرائی علاقوں پر قابو پانے کے لئے کام کرنے والی ین یوژین کی شجرکاری کی کوششوں میں مدد کی تھی۔ شی جن پھنگ نے اسے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستانہ روابط کی ایک روشن مثال قرار دیا۔شی جن پھنگ نے کہا کہ اس طرح کے عوامی روابط نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دل سے دل کے رابطے کو فروغ دیا ہے اور چین امریکہ دوستی اور تعاون کے لئے عوامی حمایت کو مضبوط کیا ہے۔دریں اثنا ٹرمپ نے امریکہ اور چین کے درمیان دیرینہ روابط کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے ابتدائی تجارتی تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان اشیاء، علم، رسم و رواج اور خیالات کے تبادلے کی جانب اشارہ کیا۔ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے صدر شی جن پھنگ اور میں دونوں اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ہم مختلف نظاموں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ہمارے عوام کے درمیان تعلقات برقرار ہیں اور ہمارے تعلقات اس سے پہلے کبھی اتنے اچھے نہیں رہے۔اب اس دوستی کو آگے بڑھانے کے لئے نئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔استقبالیہ تقریب کے دوران شی جن پھنگ نے اعلان کیا کہ پھنگ پھنگ اور فو شوانگ نامی دو پانڈا جلد ہی اٹلانٹا چڑیاگھر پہنچیں گے اور امریکی عوام سے ملیں گے۔ انہوں نے آئندہ پانچ سال کے دوران تبادلے اور تعلیمی پروگراموں کے لئے ایک لاکھ نوجوان امریکیوں کو چین آنے کی دعوت بھی دی۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چین امریکہ تعلقات کی امید ہمارے عوام سے وابستہ ہے اور اس کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔2023 میں سان فرانسسکو کے دورے کے دوران بھی شی جن پھنگ نے اسی نوعیت کے اقدام کا اعلان کرتے ہوئے پانچ سال کے دوران 50ہزار نوجوان امریکیوں کو چین آنے کی دعوت دی تھی۔ یہ ہدف پہلے ہی حاصل کیا جا چکا ہے۔ورلڈ فوڈ پرائز فاؤنڈیشن کے اعزازی صدر کینتھ کوئن نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے پانچ سال کے دوران طلبہ کی تعداد دگنی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بہت مثبت اور اہم اقدام ہے کیونکہ میرا یقین ہے کہ اس نوعیت کے تبادلے اور طلبہ کا ایک دوسرے کے ممالک میں آنا جانا انتہائی اہم ہے۔



  تازہ ترین   
حرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے: وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم
چمن سیکٹر پر افغان جارحیت اور دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاک
نوشکی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل
ہمت ہے تو آؤ دھرنا دو، پی ٹی آئی لانگ مارچ سے بھاگ گئی: عطا تارڑ
وزیراعظم شہباز شریف کی پرنس رحیم آغا خان پنجم سے نیویارک میں ملاقات، پاکستان اور اے کے ڈی این تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
مکہ دفاعی اتحاد کا سعودی سلامتی کیلئے تمام ضروری اقدامات کی حمایت کا اعلان





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر