یہ پنجاب ہے، جہاں حکومتی اشتہارات میں ہر طرف خوشحالی ہے، مگر ہسپتال کی ایمرجنسی میں زندگی سانسوں کی بھیک مانگتی ہے۔ یہ وہ پنجاب ہے، جہاں اربوں روپے کے منصوبوں کے افتتاح ہوتے ہیں، جہاں کیمرے کے سامنے فیتے کٹتے ہیں، جہاں اخبارات کے صفحات حکومت کی کارکردگی کے دعووں سے بھرے رہتے ہیں، مگر ایک انسان جب آخری سانسوں کے ساتھ ہسپتال پہنچتا ہے تو سوال یہ نہیں ہوتا کہ حکومت نے کتنے منصوبے بنائے، سوال یہ ہوتا ہے کہ وینٹی لیٹر کہاں ہے؟ دوا کہاں ہے؟ ڈاکٹر کہاں ہے؟ آکسیجن کہاں ہے؟ اور وہ ریاست کہاں ہے، جو شہری سے اس کی زندگی کے بدلے ٹیکس وصول کرتی ہے؟
شہزاد کی موت اسی سوال کا نام ہے۔ اہل خانہ کے مطابق، کریم پارک لاہور کا رہائشی شہزاد اچانک سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوا، اپنی اہلیہ سمیرا سے کہا کہ مجھے ہسپتال لے چلو، اور اپنے قدموں پر میو ہسپتال پہنچا، مگر اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی کوشش کے باوجود اسے وینٹی لیٹر دستیاب نہ ہوسکا، اور بالآخر وہ جان کی بازی ہار گیا۔ سمیرا صرف بیالیس برس کی عمر میں بیوہ ہوگئی، اور چار بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا، جن میں سب سے چھوٹا بچہ ابھی ڈیڑھ برس کا بتایا جاتا ہے۔ اگر اہل خانہ کا یہ مؤقف درست ہے تو یہ محض ایک طبی سانحہ نہیں، بلکہ پورے انتظامی نظام کے منہ پر ایسا سوال ہے، جسے کسی پریس ریلیز، کسی افتتاحی تقریب اور کسی سرکاری اشتہار سے دبایا نہیں جاسکتا۔
اس سانحے کی سب سے زیادہ دردناک بات یہ ہے کہ سمیرا عام خاندان کی بیٹی نہیں، وہ شہید گوگا کی بیٹی ہے۔ وہی گوگا جو ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوا تھا۔ ایک شخص نے اپنی قائد کی حفاظت کے لیے اپنی جان دے دی۔ آج اسی شہید کی بیٹی اپنے شوہر کی جان بچانے کے لیے ہسپتال کے وارڈوں میں دوڑتی رہی، اور اگر اہل خانہ کا بیان درست ہے تو اسے ایک وینٹی لیٹر تک نہ مل سکا۔ یہ تاریخ کا وہ سوال ہے، جس کا جواب کسی سیاسی تقریر میں نہیں مل سکتا۔ ایک شخص جمہوریت کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے، اور برسوں بعد اس کا خاندان ایک بنیادی طبی سہولت کے لیے ترستا رہے، تو ریاست کو اپنے آئین، اپنے نظام اور اپنی ترجیحات تینوں کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
مریم نواز پنجاب میں صحت کے انقلاب کے دعوے کرتی ہیں، مگر اصل انقلاب اشتہار میں نہیں، ایمرجنسی میں نظر آتا ہے۔ حکومت کتنے منصوبوں کے نام رکھتی ہے، کتنے افتتاح کرتی ہے، کتنے اشتہارات شائع کرتی ہے، یہ سب اپنی جگہ، مگر مریض کے لیے حکومت کا چہرہ صرف ایک ڈاکٹر، ایک دوا، ایک بستر، ایک آکسیجن سلنڈر اور ایک وینٹی لیٹر ہے۔ حکومت پنجاب صحت کے شعبے میں متعدد اصلاحات اور منصوبوں کا اعلان کر رہی ہے، مگر میو ہسپتال جیسے بڑے سرکاری ادارے کے بارے میں ادویات، طبی سامان اور بنیادی سہولتوں کی قلت کی شکایات ماضی میں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔ اکتوبر دو ہزار چوبیس میں ڈان نے میو ہسپتال میں مالی مشکلات کے باعث زندگی بچانے والی ادویات اور طبی سامان کی کمی کی رپورٹ دی تھی، جبکہ جون دو ہزار تئیس کی ایک رپورٹ میں میو ہسپتال کی ایمرجنسی میں روزانہ تقریباً تین ہزار مریضوں کے دباؤ اور بستروں، ادویات، لیبارٹری سہولتوں اور وینٹی لیٹرز سے متعلق مشکلات کا ذکر کیا گیا تھا۔
یہاں سوال حکومت کے ہر منصوبے کو رد کرنا نہیں، سوال ترجیحات کا ہے۔ اگر حکومت کے پاس تشہیر کے لیے وسائل ہیں، اگر بڑے بڑے منصوبوں کے افتتاح ہوسکتے ہیں، اگر حکومتی کارکردگی کے لیے اشتہارات کا طویل سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، تو پھر ہسپتالوں میں بنیادی مشینری اور ضروری طبی سامان مستقل بنیادوں پر کیوں نہیں یقینی بنایا جاسکتا؟ حکومتیں عمارتیں بناتی ہیں، تختیاں لگاتی ہیں، نام بدلتی ہیں، مگر مریض کو عمارت نہیں، زندگی چاہیے۔ اسے افتتاح نہیں، علاج چاہیے۔ اسے تقریر نہیں، دوا چاہیے۔ اسے وعدہ نہیں، وینٹی لیٹر چاہیے۔
اور پھر اسی پنجاب میں ایک اور منظر سامنے آتا ہے۔ وزیراعلیٰ کے سرکاری طیارے کا سوال لندن کے خاندانی سفر پر اٹھنے والی تنقید کے جواب میں مریم نواز نے ملتان میں کہا کہ یہ وزیراعلیٰ کا طیارہ ہے، اور انہوں نے سفر کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ سرکاری مؤقف اپنی جگہ، اور اس کی وضاحت بھی اپنی جگہ، مگر عوام کا سوال اس سے کہیں بڑا ہے۔ عوام یہ نہیں پوچھ رہے کہ ایک طیارے کے سفر کا بل کس نے دیا، عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ جس حکومت کے پاس وزیراعلیٰ کے سفر کے لیے سرکاری طیارہ موجود ہے، اسی صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں زندگی بچانے والی مشینوں کی دستیابی یقینی کیوں نہیں؟ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ریاستی وسائل کی ترجیح کیا ہے؟ حکمران کا سفر یا مریض کی سانس؟
بات طیارے کے استعمال تک محدود نہیں، بات اس سیاسی علامت کی ہے، جو ایسے واقعات عوام کے ذہن میں پیدا کرتے ہیں۔ جب ایک طرف حکمران طبقے کے لیے سفر، علاج، سہولت اور انتظامی وسائل دستیاب ہوں، اور دوسری طرف ایک عام شہری ایمرجنسی کے دروازے پر وینٹی لیٹر تلاش کرتا پھرے، تو ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے کا احساس بڑھتا ہے۔ حکمران اگر اپنے فیصلوں کو قانونی، انتظامی اور مالی جواز کے ساتھ درست سمجھتے ہیں، تو انہیں وضاحت دینے سے گریز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ عوامی منصب پر بیٹھنے والے شخص کا اصل امتحان صرف اختیار استعمال کرنا نہیں، بلکہ اختیار کے استعمال پر عوام کو مطمئن کرنا بھی ہے۔
یہاں سوال اس سے بھی آگے جاتا ہے۔ جب صاحب اقتدار کے لیے علاج کی بہترین سہولت کا انتخاب ممکن ہو، تو عام شہری بھی یہ پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ اسے اپنے ہی صوبے کے سرکاری ہسپتال میں بہترین علاج کیوں نہیں مل سکتا؟ مریم نواز کے جنوری دو ہزار تئیس میں جنیوا میں گلے کی سرجری کی خبر اس وقت سرکاری اور میڈیا ذرائع سے سامنے آئی تھی، اور سرجری تین گھنٹے جاری رہنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ سوال بیرون ملک علاج کے حق سے انکار کا نہیں، سوال اس دوہرے احساس کا ہے، جو عام شہری کو اس وقت ہوتا ہے، جب حکمران کے لیے دنیا کے بہترین طبی مراکز قابل رسائی ہوں، مگر غریب کے لیے اپنے شہر کے سرکاری ہسپتال میں ایک وینٹی لیٹر بھی یقینی نہ ہو۔
پنجاب کی سیاست میں اصل مسئلہ یہی ہے کہ حکومت کی کارکردگی کا پیمانہ کیمرہ بنتا جارہا ہے، جبکہ عوام کا پیمانہ زندگی ہے۔ حکومت کہتی ہے، ہم نے یہ کردیا، ہم کہتے ہیں، مریض کو کیا ملا؟ حکومت کہتی ہے، ہم نے وہ منصوبہ شروع کردیا، مریض پوچھتا ہے، میری دوا کہاں ہے؟ حکومت کہتی ہے، ہم نے صحت کا انقلاب برپا کردیا، لواحقین پوچھتے ہیں، وینٹی لیٹر کہاں ہے؟ یہ دو الگ پنجاب ہیں۔ ایک اشتہار کا پنجاب، دوسرا ایمرجنسی کا پنجاب۔ ایک کیمرے کے سامنے روشن ہے، دوسرا ہسپتال کی راہداری میں تاریک ہے۔
اور یہی تضاد تعلیم میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ پنجاب حکومت نے پبلک اسکول ری آرگنائزیشن پروگرام کے تحت سرکاری اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے چلانے کی سمت اختیار کی ہے۔ حکومت کے اپنے اعلان کے مطابق، ہزاروں سرکاری اسکولوں کو نجی شراکت داری کے ذریعے چلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نجی شراکت داری اصولاً اچھی ہے یا بری، سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے بنیادی اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے بار بار یہ راستہ کیوں تلاش کرتی ہے کہ ذمہ داری کا کچھ حصہ دوسروں کو منتقل کردیا جائے؟ اگر سرکاری ہسپتال کمزور ہیں تو انہیں مضبوط کیجیے۔ اگر سرکاری اسکول کمزور ہیں تو انہیں بہتر بنائیے۔ ریاست کا کام صرف نئے منصوبے بنانا نہیں، بلکہ پہلے سے موجود نظام کو قابل اعتماد بنانا بھی ہے۔
حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ وہ کتنے منصوبوں کی فہرست بنا سکتی ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ایک رات کے دو بجے ایک غریب مریض ایمرجنسی میں پہنچے تو کیا نظام اس کی جان بچانے کے لیے تیار ہے؟ یہی حکومت کی کارکردگی کا اصل امتحان ہے۔ یہی صحت کے انقلاب کا اصل پیمانہ ہے، اور یہی وہ مقام ہے، جہاں اشتہار کی چمک ختم ہوجاتی ہے اور حکمرانی کی حقیقت سامنے آتی ہے۔
ماضی میں پنجاب میں سرکاری شعبہ صحت کے مختلف ادوار میں ایمرجنسیز کی توسیع، مشینری کی فراہمی اور ہسپتالوں کی استعداد بڑھانے کے منصوبے سامنے آتے رہے ہیں۔ کسی سابق حکومت کو مکمل مثالی قرار دینا نہ درست ہے، نہ ضروری، مگر اچھی حکمرانی کا اصول یہی ہے کہ جو کام پہلے بہتر ہوا، اسے سیاسی دشمنی کی وجہ سے ضائع نہ کیا جائے، اور جو غلط ہوا، اسے صرف اس لیے نہ دہرایا جائے کہ نئی حکومت کو اپنا منصوبہ دکھانا ہے۔ پنجاب کسی ایک خاندان، کسی ایک جماعت یا کسی ایک حکومت کی جاگیر نہیں، یہ کروڑوں انسانوں کا صوبہ ہے۔
اور اب شہزاد کے معاملے میں سب سے اہم سوال یہی ہے۔ حکومت سیاسی دفاع میں جانے کے بجائے فوری اور شفاف تحقیقات کرے۔ اگر وینٹی لیٹر موجود نہیں تھا تو کیوں نہیں تھا؟ اگر موجود تھا تو مریض کو کیوں نہیں ملا؟ اگر عملے کی غفلت تھی تو ذمہ دار کون ہے؟ اگر انتظامی ناکامی تھی تو کس سطح پر ہوئی؟ اور اگر اہل خانہ کا الزام درست نہیں، تو حکومت مکمل شواہد کے ساتھ حقیقت سامنے لائے۔ ایک انسانی جان کے معاملے میں خاموشی بھی جواب نہیں، اور اشتہار بھی جواب نہیں، صرف حقیقت جواب ہے۔
مریم نواز صاحبہ سے سوال کسی ذاتی سفر کا نہیں، پنجاب کے کروڑوں شہریوں کا ہے۔ آپ کے پاس اختیار ہے، آپ کے پاس انتظامیہ ہے، آپ کے پاس بجٹ ہے، آپ کے پاس منصوبے ہیں، آپ کے پاس تشہیر کا پورا نظام ہے، مگر ایک سوال کا جواب بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ جب ایک شہری کی سانس آخری حد تک پہنچ جائے گی، تو کیا پنجاب کا نظام اسے بچانے کے لیے تیار ہوگا، یا اسے بھی کسی اگلے اشتہار میں صحت کے انقلاب کی تصویر دکھا دی جائے گی؟
حکومت کی طاقت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس کا طیارہ کتنی بلندی پر اڑتا ہے۔ حکومت کی طاقت اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس کے ہسپتال میں مریض کی امید کتنی بلندی پر زندہ رہتی ہے۔ طیارہ اڑ سکتا ہے، منصوبے چل سکتے ہیں، اشتہار چھپ سکتے ہیں، فیتے کٹ سکتے ہیں، مگر مرنے والے انسان کی سانس واپس نہیں آتی۔ یہی وہ فرق ہے، جسے حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا۔
فیض نے کہا تھا:
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
مگر پنجاب کے عوام کب تک صرف دیکھتے رہیں گے؟ کب تک ایک طرف اشتہارات میں صحت کا انقلاب دیکھیں گے اور دوسری طرف ہسپتال میں ایک وینٹی لیٹر کے لیے تڑپتا مریض دیکھیں گے؟ کب تک نئی عمارتوں کے افتتاح دیکھیں گے اور پرانے نظام کی خامیاں برداشت کریں گے؟ کب تک مہنگائی، ٹیکس، بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم اور علاج کا بوجھ اٹھا کر یہ سنتے رہیں گے کہ حکومت نے سب کچھ کردیا ہے؟
حکومتوں کی اصل کارکردگی کیمرے کے سامنے نہیں، ایمرجنسی کے اندر نظر آتی ہے۔ وہاں کوئی نعرہ نہیں ہوتا، وہاں کوئی سیاسی جلسہ نہیں ہوتا، وہاں کوئی اشتہار نہیں ہوتا۔ وہاں صرف ایک مریض ہوتا ہے، ایک خاندان ہوتا ہے، اور زندگی کی آخری امید ہوتی ہے۔ شہزاد بچ سکتا تھا یا نہیں، یہ فیصلہ تحقیقات کریں گی، لیکن اگر واقعی ایک وینٹی لیٹر کی عدم دستیابی نے اس کی زندگی چھینی ہے، تو پھر یہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں، بلکہ پنجاب کے نظام صحت کے لیے ایک ایسا سوال ہے، جس سے فرار ممکن نہیں۔
پنجاب کو اشتہاروں کا نہیں، علاج کا انقلاب چاہیے۔ تختیوں کا نہیں، ہسپتالوں کا نظام چاہیے۔ دعووں کا نہیں، جواب دہی کا کلچر چاہیے، اور سب سے بڑھ کر ایسا نظام چاہیے، جہاں شہید گوگا کی بیٹی کا شوہر ہو یا کسی مزدور کا بیٹا، کسی امیر کا وارث ہو یا کسی غریب کی آخری امید، جب ہسپتال پہنچے تو اس سے یہ نہ کہا جائے کہ وینٹی لیٹر نہیں ہے۔
کیونکہ ریاست کی اصل شان یہ نہیں کہ اس کا حکمران کس طیارے میں سفر کرتا ہے، اصل شان یہ ہے کہ اس کے ہسپتال میں ایک عام انسان کی سانس کتنی محفوظ ہے، اور جب ریاست کے اشتہار روشن ہوں، مگر ہسپتال تاریک ہو، تو پھر سوال صرف ایک وینٹی لیٹر کا نہیں رہتا، سوال پورے نظام کی ترجیحات کا بن جاتا ہے۔
اشتہار روشن ہسپتال تاریک ۔۔ایک وینٹی لیٹر کا سوال



