میں تاریخ کا کوئی بڑا محقق ہونے کا دعوٰی نہیں کرتا، میں تو تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں صحافت سے میری وابستگی اور صحافتی برادری کی ذمہ داریوں نے مجھے پاکستان کے طول و عرض میں سفر کرنے، مختلف شہروں کے صحافیوں، اہل قلم، سیاسی کارکنوں، دانشوروں اور عام لوگوں سے ملنے کے بے شمار مواقع دیے ہیں۔ پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں بار بار جانا پڑتا ہے اور شاید یہی سفر میرے اندر تاریخ کو جاننے اور اس کے اوراق کو کھنگالنے کی جستجو کو مزید گہرا کرتا گیاہے چونکہ میرا تعلق بھی ان پہاڑوں کی بستیوں سے ہے جہاں جنرل ایوب خان نے جنم لیا تھا، اس لیے ایوب خان کا نام میرے لیے محض تاریخ کی کسی کتاب کا ایک باب نہیں بلکہ اپنے ہی خطے کی تاریخ کا ایک کردار بھی ہے۔ میرے والدین نے مجھے ایک بات سکھائی کہ جھوٹ سے بچنا، سچ کا ساتھ دینا اور حقائق کو چھپانا نہیں، خواہ سچ بولنے کی قیمت کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ صحافت میں اسی اصول کی خاطر میں نے اپنی ملازمتوں کی قربانیاں بھی دیں، مالی دباؤ بھی برداشت کیا اور بعض اوقات دوستیاں بھی داؤ پر لگیں، مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اسی جستجو کے دوران ایک بار مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما اورسیاسی زعما سے ملاقات کے دوران جب 1958 کے ایک معمولی سے کاغذ کے پرزے اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات پر زیر حاصل بحث ہوٸی تو میں نے فیصلہ کیا کہ اس قصہ کو نئی نسل تک پہنچنا چاہیے جبکہ حقاٸق کو مزید جاننے کے لیے میں نے لاٸبرریوں کی خاک بھی چھانی تاکہ ہر ممکن طور پر مصدقہ حقاٸق تک رساٸی مل سکے تاریخ کے أٸینے میں حقاٸق کسی صورت چھپ نہیں سکتے پاکستان کی سیاسی تاریخ جیسی بھی ہے اسے أج کی نوجوان نسل تک ضرور واقفیت ہونی چاہیے کیونکہ جس قوم کی نئی نسل اپنے ماضی کے تلخ اوراق سے ناواقف ہو جائے، وہ بار بار انہی غلطیوں کے دروازے پر جا کھڑی ہوتی ہے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
پاکستان کی سیاسی تاریخ کسی سیدھی لکیر کا نام نہیں۔ اس میں جمہوریت کے روشن ابواب بھی ہیں، سیاسی جدوجہد کی شاندار مثالیں بھی، عوامی مزاحمت کے قصے بھی اور ایسے سیاہ ادوار بھی جن میں آئین، پارلیمان اور جمہوری اختیار کو طاقت کے سامنے بے بس ہوتے دیکھا گیا۔ آزادی کے بعد پاکستان نے سیاسی حکومتوں کے ادوار بھی دیکھے، آئینی بحران بھی دیکھے، صدارتی اختیارات کی کشمکش بھی دیکھی، فوجی حکومتیں بھی دیکھیں اور پھر جمہوریت کی طرف واپسی کے سفر بھی دیکھے۔ مگر ان تمام واقعات کو سمجھنے کے لیے 1958 کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہی وہ سال تھا جب پاکستان کی سیاسی زندگی میں فوجی اقتدار کی پہلی بڑی دستک باقاعدہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی۔
آپ سے اگر کوئی پوچھے کہ کیا کاغذ کا ایک چھوٹا سا پرزہ کسی ملک کی تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے تو یقیناً آپ کا جواب ’نہ‘ میں ہوگا۔ لیکن یہ کاغذ کا چھوٹا سا پرزہ اگر کسی سرکاری عہدے دار کے ہاتھ سے گزر کر نکلا ہو تو وہ یقیناً ملکی تاریخ پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔ 9 جون 1958ء بھی ایک ایسا ہی دن تھا جب ایوانِ صدر کی اسٹیشنری سے پھٹے سرکاری کاغذ کے ایک چھوٹے پرزے نے پاکستان کی تاریخ ہی بدل ڈالی۔
یہ بات بھی ماننی پڑتی ہے کہ بظاہر معمول کے نظر آنے والے دن بعض اوقات بڑے ہی غیر معمولی بن جاتے ہیں اور قوموں کی تاریخ کا منہ موڑ دیتے ہیں۔ ٹھیک اڑسٹھ (68) برس پہلے سن انیس سو اٹھاون کا جون بھی ایک ایسا ہی منفرد دن تھا جس نے پاکستان کی تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑے۔
9 جون 1958ء کی اس گرم دوپہر دھوپ میں شدت کچھ زیادہ تھی۔ مشہور بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب اپنے دفتر میں بیٹھے کام کر رہے تھے۔ اس وقت کے صدرِ پاکستان اسکندر مرزا حسبِ معمول پورے ایک بجے اپنے کمرے سے اٹھ کر قدرت اللہ شہاب کے دفتر کی کھڑکی کے پاس آئے اور پوچھا: “کوئی ضروری کام باقی تو نہیں؟”
شہاب نے نفی میں جواب دیا۔ اسکندر مرزا خدا حافظ کہہ کر ایوانِ صدر میں اپنے رہائشی حصے کی طرف روانہ ہو گئے۔ تھوڑی دور چل کر وہ اچانک رکے اور مڑ کر تیز تیز قدم اٹھاتے واپس قدرت اللہ شہاب کے کمرے میں آگئے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ بولے: “میں ایک ضروری بات تو بھول ہی گیا۔”
یہ کہہ کر انہوں نے قدرت اللہ شہاب کی میز سے پریذیڈنٹ ہاؤس کی اسٹیشنری کا ایک ورق اٹھایا اور وہیں کھڑے کھڑے وزیراعظم فیروز خان نون کے نام ایک دو سطری نوٹ لکھا۔
ہماری باہمی متفقہ رائے کے مطابق بری افواج کے کمانڈر انچیف کے طور پر جنرل محمد ایوب خان کی ملازمت میں دو سال کی توسیع کے احکامات فوری طور پر جاری کر دیے جائیں۔
اس پر انہوں نے انگریزی میں “Most Immediate” (نہایت فوری) کا لیبل اپنے ہاتھوں سے پن کیا اور قدرت اللہ شہاب کو حکم دیا کہ وہ ابھی خود جا کر یہ نوٹ وزیراعظم کو دیں اور ان کے عملے کے حوالے نہ کریں۔ یہ مختصر سا پروانہ بڑی عجلت اور کسی قدر بے پروائی کے عالم میں لکھا گیا تھا لیکن کاغذ کے اس چھوٹے سے پرزے نے ملک کی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
پاکستانی تاریخ کے اس انتہائی اہم دن کو پاکستان کے پہلے فوجی صدر جنرل ایوب خان نے اپنی کتاب “فرزندِ رزق” (جس کا نام غالباً ‘جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی’ کا حوالہ ہے، یا پھر کتاب ‘Friends Not Masters’ مراد ہے) میں بڑے منفرد انداز میں بیان کیا ہے:
”9 جون 1958ء کو سیکرٹری دفاع نے مجھے بتایا کہ آپ کے عہدے کی میعاد میں دو برس کی توسیع ہو گئی ہے۔ اس کا اعلان دوپہر کو ہوگا۔ یہ توسیع کس طرح عمل میں آئی اور اس کے بارے میں میرا ردِعمل کیا تھا، اس کی کیفیت مندرجہ ذیل سگنلز سے معلوم ہوگی:
وزیراعظم فیروز خان نون کی جانب سے کمانڈر انچیف پاک آرمی کے نام مورخہ 9 جون 1958ء کو دیا جانے والا پیغام:
“مجھے بڑی خوشی ہے کہ آپ نے دو برس تک ہماری افواج کے کمانڈر انچیف کے عہدے پر رہنا منظور کر لیا ہے۔ آپ ابھی بہت کم عمر ہیں۔ آپ کی عمر ابھی صرف 51 سال ہے لیکن تجربے اور قابلیت میں نہایت پختہ کار ہیں۔ پاکستان موجودہ حالات میں آپ کی خدمات سے محرومی کا نقصان کسی طرح برداشت نہیں کر سکتا اور مجھے یقین ہے کہ پہلے کی طرح ملک کا دفاع آپ کے ہاتھوں میں محفوظ رہے گا۔”
کمانڈر انچیف کا جواب:
“میں اپنی ملازمت کی توسیع پر آپ کے تعریفی اور حوصلہ افزا پیغام پر شکر گزار ہوں۔ ذاتی طور پر مجھے سبکدوشی پر بھی ویسی ہی خوشی ہوتی جیسے اس عظیم الشان فوج کی خدمت کا مزید موقع ملنے پر ہوئی جس کی تعبیر میری عمر بھر کی تمنا رہی ہے۔ بہرحال میں نے اکتیس برس تک اس کا نمک کھایا ہے اور میں نے جو کچھ حاصل کیا، اسی کی بدولت اور وہ اسی کی ملکیت ہے۔ آپ مطمئن رہیں۔ میری بہترین خدمات فوج اور اس کے ذریعے ملک کی خدمت کے لیے وقف رہیں گی۔”
تاریخ بتاتی ہے کہ 1948ء میں قائد اعظم نے فوجی افسر ایوب خان کو مہاجرین کی آباد کاری کے سلسلے میں سردار عبدالرب نشتر کی معاونت کی ذمہ داری دی تھی۔ سردار عبدالرب نشتر نے قائد اعظم کو رپورٹ پیش کی کہ ایوب خان نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور اس کا رویہ پیشہ ورانہ نہیں ہے۔
29 دسمبر 2001ء کو ڈیلی ڈان میں چھپنے والے تنویر زاہد کے ایک خط “Of Derailment Democracy” کے مطابق قائد اعظم نے ایوب خان کی فائل پر لکھا تھا:
“میں اس فوجی افسر کو جانتا ہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران پیچ نہیں لگائے گا۔”
تنویر زاہد کا دعویٰ ہے کہ یہ خفیہ فائل کیبنٹ ڈویژن میں موجود ہے جسے ابھی تک ڈی کلاسیفائی نہیں کیا گیا۔
”Of Misfortune Soldiers” نامی انگریزی کتاب کے مصنف ایس ایم کوریجو کے مطابق قائد اعظم اگر زندہ رہتے تو جنرل ایوب خان فور اسٹار جنرل بننے سے پہلے ہی ریٹائر ہو جاتے۔
مشہور لکھاری قیوم نظامی اپنی کتاب “جرنیل اور سیاستدان تاریخ کی عدالت میں” رقم طراز ہیں کہ قائد اعظم کی وفات کے بعد ایوب خان اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور 1950ء میں جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل بن گئے۔ یہ فوج میں ایک اہم پوزیشن تھی۔
اس منصب کی وجہ سے وہ طاقت کے مراکز کے قریب ہو گئے۔ پاک فوج کے انگریز کمانڈر انچیف جنرل گریسی نے اپنی مدت ختم ہونے پر ایوب خان کو نیا کمانڈر انچیف بنانے کی سفارش کی، تاہم وزیراعظم کو انتباہ کیا کہ ان کی سیاسی خواہشات پر نظر رکھی جائے۔
اکتوبر 1958ء میں ملک کے سیاسی حالات ابتر ہو گئے۔ 17 اکتوبر 1958ء کو صدر اسکندر مرزا نے حکومت ختم کرنے، اسمبلیاں توڑنے اور ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی قوم کو بتایا گیا کہ کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو مارشل لا کا چیف ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا ہے۔ جنرل ایوب خان مزید اختیارات چاہتے تھے جس پر صدر اسکندر مرزا نے 24 اکتوبر 1958ء کو انہیں ملک کا وزیراعظم بنا دیا۔
کہا جاتا ہے کہ 27 اکتوبر 1958ء کی رات دس بجے جنرل ایوب خان کی ایما پر تین جرنیلوں جنرل واجد علی برکی، جنرل اعظم خان اور جنرل کے ایم شیخ نے بندوق کی نوک پر صدر اسکندر مرزا سے ان کے استعفے پر دستخط کروا لیے۔ یوں ملک کے تمام اعلیٰ ترین عہدے جنرل ایوب خان کی ذات میں اکٹھے ہو گئے۔
مندرجہ بالا تمام حقائق اپنی جگہ مگر ایک بات طے ہے کہ اسکندر مرزا کے “ضروری کام” نے نہ صرف ان سے کرسی صدارت کا عہدہ چھینا بلکہ ان کے حصے میں لندن کی جلاوطنی بھی آئی۔ اس دن کے بعد ملک میں جمہوریت کی جلاوطنی کا کھیل کئی مرتبہ کھیلا گیا۔ کاش! 9 جون 1958ء کی اس گرم دوپہر صدر اسکندر مرزا کو جنرل ایوب خان کی مدت ملازمت میں توسیع کا وہ “ضروری کام” یاد نہ آتا۔ کاش!!! تب ممکن تھا کہ آج پاکستان کی سیاسی تاریخ مختلف ہوتی۔ ہمیں تاریخ سے نفرت نہیں، تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ پاکستان کے سنہری ابواب بھی ہمارے ہیں اور سیاہ ابواب بھی۔ کامیابیاں بھی ہماری میراث ہیں اور غلطیاں بھی۔ اگر ہم صرف اپنی پسند کے واقعات پڑھیں گے تو تاریخ نہیں، اپنی خواہش پڑھیں گے۔ تاریخ تو وہ ہے جو ہمیں آئینہ دکھائے، چاہے چہرہ کتنا ہی بدنما کیوں نہ نظر آئے۔
اور شاید 1958 کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ریاستیں صرف دشمنوں سے نہیں، اداروں کی کمزوری، آئین سے انحراف اور اقتدار کی بے لگام خواہش سے بھی زخمی ہوتی ہیں۔ اسکندر مرزا کا وہ ’’ضروری کام‘‘ بظاہر چند سطروں کا ایک انتظامی معاملہ تھا، مگر اس کے بعد جو ہوا وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا باب بن گیا جسے آج بھی کھولنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ قومیں اپنے ماضی کو دفن کرکے مستقبل تعمیر نہیں کرتیں؛ وہ ماضی کو سمجھ کر مستقبل کی غلطیوں سے بچتی ہیں۔
اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ اقتدار عارضی ہے، عہدے عارضی ہیں، حکومتیں عارضی ہیں، مگر آئین، ادارے اور قوم کی اجتماعی یادداشت اگر زندہ رہیں تو تاریخ میں ایسی قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔



