مرد و زن کی کشمکش کے چند دلچسپ پہلو

کہنے کو عورت اور مرد ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں، مگر جب سے یہ اصطلاح ’’بار اور بنچ‘‘ کے لیے استعمال ہونا شروع ہوئی ہے، اس بات سے بھی کچھ اعتماد اٹھ گیا ہے۔ پھر خیال آیا کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، تو پتا چلا کہ کرنسی devalue ہونے کی بنا پر اب اس سکے کے Head کی مارکیٹ میں قیمت تو ہے، مگر Tail اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔

اگر ان دونوں میاں بیوی کو کسی طلسماتی کہانی کے ہیرو اور ہیروئن سمجھ لیں، پھر بھی صورتِ حال کچھ مختلف نہیں۔ ہیروئن فلم کے آخر تک زندہ بھی رہتی ہے اور ہشاش بشاش بھی، جبکہ ہیرو کو کہیں نہ کہیں پینتھی پڑتی ہے یا وہ جان سے جاتا ہے۔ اس ساری آزمائش سے بچنے کے لیے اگر شروع ہی میں عورت کی برتری اور بالادستی تسلیم کر لی جائے تو کیا مضائقہ ہے؟

مرد ساری عمر اس کمپلیکس میں مبتلا رہتا ہے کہ وہ گھر میں برتر ہے۔ اس کے حق میں اس نے بے شمار وجوہات بھی تراش رکھی ہوتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ گھر کی سربراہ اکثر عورت ہی ہوتی ہے۔ بیوی بننے کے بعد ماں بننے تک کا سفر اسے ایک ایسے گھوڑے کا شہسوار بنا دیتا ہے جسے اس کے مقام سے گرانا آسان نہیں ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس مقام تک پہنچنے سے پہلے عورت کے لیے کئی مقاماتِ آہ و فغاں بھی آتے ہیں۔

شادی کے بعد وہ بات بات پر اپنے والدین کے گھر کا ذکر کرتی نہیں تھکتی۔ پھر جب والدین اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں تو بڑے مان سے اپنے بھائیوں کا ذکر شروع کر دیتی ہے اور خاوند بے چارے کو ڈرا کر رکھتی ہے۔ پھر جب بھائیوں کی بیویاں، یعنی بھابیاں، اس کی میکے میں بے جا مداخلت پر ناک منہ چڑھانے لگتی ہیں تو اسی دوران اس کے اپنے بچے جوان ہو جاتے ہیں۔ اب وہ بچوں کے والد کی کم ہی پروا کرتی ہے اور بات بات پر اپنے ’’شیروں‘‘ کا ذکر کرتی نہیں تھکتی۔

جب بیٹوں کی شادیاں ہو جاتی ہیں، گھر میں بہوئیں آ جاتی ہیں اور نوک جھونک شروع ہوتی ہے، تو بیٹے بھی ماں کے ساتھ آنکھ ملانے سے کترانے لگتے ہیں۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ جس خاوند کی وجہ سے کبھی گھر میں اس کی چوہدراہٹ تھی، اسے تو کافی عرصے سے درخورِ اعتنا ہی نہیں سمجھا گیا اور وہ بے چارہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن چکا ہے۔

باقی سارے رشتوں سے مایوس ہو کر بالآخر وہ یوں نعرہ زن ہوتی ہے:

’’جیوے میرے سر دا سائیں،
مجھے کیا پرواہ ہے کسی کی!‘‘

مگر اس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے ’’سر دا سائیں‘‘ اگر زندہ ہو تو ہاتھ میں ڈنگوری پکڑے ہوئے ہوتا ہے۔



شریکِ حیات کا دل جیتنے کے لیے واقعی کافی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اس کے باوجود سچے پیار کی تلاش میں عمر گزر جاتی ہے۔ یہ دو طرفہ کھیل ہے جو بغیر کسی ریفری اور ایمپائر کے کھیلا جاتا ہے۔

اس ساری صورتِ حال میں یہ طے کرنا تو کافی مشکل ہے کہ مرد و عورت میں زیادہ مظلوم کون ہے، مگر پاکستانی مرد بھی اپنی چالاکیوں میں کسی سے پیچھے نہیں۔ بظاہر بڑے بھولے اور سادہ نظر آنے والے بہت سے مرد اندر سے خاصے کھرانٹ ہوتے ہیں۔

بہت سے خاوند ساری عمر دوسری شادی کے چکر میں رہتے ہیں اور پہلی شادی سے بھی ٹھیک طرح لطف اندوز نہیں ہوتے۔ بہت سے بیچارے دوسری شادی کی ناکام خواہش ہی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ مرد کا دوسری شادی سے اجتناب بھی عموماً کسی اخلاص یا قربانی کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے بے شمار خوف اور اندیشے بھی ہو سکتے ہیں۔

ہمارے خیال میں دوسری شادی کا ایڈونچر کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ پہلی زوجہ پر ہی مناسب Investment کرکے اسے زمانۂ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ مگر مرد پھر بھی باہر منہ مارنے سے باز نہیں آتا۔ شاید یہ کچھ جبلی سا معاملہ ہے۔

بہت سے دوست اپنی بیگمات کے نخرے اٹھاتے ہیں۔ یار لوگ انہیں ’’رن مرید‘‘ کہتے ہیں۔ ہم نے تو ایسے مظلوم شوہر بھی دیکھے ہیں جو اگر گھر میں داخل ہو جائیں تو بلا اجازت باہر نہیں جا سکتے، اور اگر باہر چلے جائیں تو گھر کے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔

تاہم ہمارے خیال میں میاں بیوی کا رشتہ انمول بھی ہے اور میٹھا بھی۔ یہ رشتہ برابری، باہمی اعتماد، عزت اور احترام سے چلے تو زیادہ دل پزیر ہوتا ہے۔ گھر کے فیصلے اگر باہمی مشاورت سے ہوں تو باعثِ برکت ہوتے ہیں۔ اختلافِ رائے ہو تو دلیل اور استدلال کے ساتھ گفتگو ہونی چاہیے۔ دنیا داری میں مرد کو بعض معاملات میں زیادہ تجربہ اور exposure حاصل ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت کی زندگی کے تجربات اور بصیرت اپنی جگہ نہایت اہم ہیں۔

مرد روزی روٹی کے چکر میں اپنی بیوی اور اولاد کی خاطر بڑی خجل خواری کرتا ہے۔ ریگستانوں اور صحراؤں کی خاک بھی چھانتا ہے، مگر اس کے باوجود اس کی قدر ناشناسی کا شکوہ بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ بقولِ اقبال:

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں، معذور ہیں مردانِ خردمند

عورت اللہ تعالیٰ کی نہایت خوبصورت تخلیق ہے۔ یہ نازک آبگینے کی مانند حساس بھی ہے اور خلوص کا پیکر بھی۔ عورت اگر قربانی پر آ جائے تو مرد پر ہر چیز قربان کر دیتی ہے، اور اگر انتقام پر آ جائے تو پھر اللہ کی پناہ!

عورت کے سارے روپ—ماں، بہن، بیٹی اور بیوی—اپنی جگہ خوبصورت اور دلکش ہیں۔ ہر روپ کے اپنے خصائل ہیں۔ وہ بیٹی کی صورت میں رحمت اور عزت ہے، ماں کی صورت میں شفقت اور دعاؤں کا انمول خزینہ، بہن کی صورت میں انس و محبت کا سرچشمہ، اور بیوی کی صورت میں مونس، غم خوار اور مجسمۂ الفت و محبت ہے۔

عورت کا وجود صرف تصویرِ کائنات میں رنگ ہی نہیں بھرتا بلکہ اس کائنات کو مسحور کن، دلکش، دل پزیر اور بامعنی بھی بنا دیتا ہے۔

مگر بدقسمتی سے ہمارے مخصوص معاشرتی پس منظر میں، اس مردانہ غلبے کے دور میں، عموماً عورت کو دبا کر ہی رکھا جاتا ہے۔ اس کی رائے، خواہشات اور صلاحیتوں کو کئی مواقع پر وہ مقام نہیں ملتا جس کی وہ حق دار ہے۔

میری نظر جب ان الفاظ پر پڑی کہ:

’’اس سوسائٹی میں اگر عورت اپنا آپ بچا بھی لے تو تب بھی مجرم ٹھہرتی ہے، اور اگر اپنا آپ گنوا بھی دے تو تب بھی وہی مجرم ٹھہرتی ہے۔‘‘

تو میں چونک اٹھا۔

یہ جملہ ہمارے معاشرتی رویوں کے ایک ایسے تلخ پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب کسی معاشرے میں عورت کے لیے دونوں صورتوں میں الزام ہی مقدر بن جائے تو اس معاشرے کے انصاف، اقدار اور اجتماعی رویوں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

ایسے نامساعد حالات میں بھی اگر عورت آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہے، اپنے وجود، وقار اور شناخت کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کرتی ہے اور خاندان و معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتی ہے، تو وہ یقیناً زیادہ عزت، احترام اور تکریم کی مستحق ہے۔

مرد و زن کی کشمکش شاید کبھی ختم نہ ہو۔ کبھی مرد مظلوم دکھائی دے گا، کبھی عورت۔ کبھی بیوی کی شکایت درست ہوگی اور کبھی شوہر کا شکوہ بجا۔ مگر شاید اس پورے کھیل کا اصل حل یہ نہیں کہ کون غالب ہے اور کون مغلوب، بلکہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو حریف نہیں، شریکِ حیات سمجھیں۔

آخرکار گھر کسی ایک کی فتح اور دوسرے کی شکست کا میدان نہیں۔ یہ دو انسانوں کی مشترکہ زندگی ہے، جسے محبت، اعتماد، برداشت، مشاورت اور احترام ہی خوبصورت بنا سکتے ہیں۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مرد و زن کی کشمکش ختم ہو کر رفاقت میں بدل جاتی ہے۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا لندن سٹاک ایکسچینج کا دورہ، معیشت مضبوط بنانے کیلئے بہت محنت کی: خطاب
افغانستان کے قابلِ قبول اور دوستانہ حل کیلئے مذاکرات کے حامی ہیں: عطا اللہ تارڑ
حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
امریکا سے مذاکرات پہلے سے زیادہ سنجیدہ اور مختصر ہوسکتے ہیں: عراقچی
سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
امریکا، اسرائیل کی ایران کو پسماندگی میں دھکیلنے کی کوشش ناکام ہوگئی: ایرانی سپریم لیڈر





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر