طاقت کے غرور سے امن کے عالمی شعور تک شی جن پنگ

دنیا اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑی ہے، جہاں طاقت کے پرانے پیمانے ٹوٹ رہے ہیں اور عالمی سیاست کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی اکیاسی ویں جنرل اسمبلی نے بھی اس بدلتی ہوئی دنیا کی ایک ایسی تصویر پیش کی ہے، جس میں جنگ، تجارت، معیشت، سفارت کاری اور عالمی طاقت کے توازن کے سوالات ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ اس منظرنامے میں چین کا مؤقف خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگرچہ رواں جنرل اسمبلی میں چین کی نمائندگی صدر شی جن پنگ نے نہیں بلکہ نائب صدر ہان ژینگ نے کی، تاہم چین کی گفتگو میں وہی بنیادی خارجہ پالیسی نمایاں رہی، جسے شی جن پنگ گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر آگے بڑھاتے رہے ہیں، یعنی کثیر ملکی نظام، اقوام متحدہ کے مرکزی کردار، قومی خود مختاری، باہمی احترام، مشترکہ ترقی اور طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے تنازعات کے حل کا تصور۔ چین نے ایک مرتبہ پھر دنیا کے سامنے رکھا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں آج کی عالمی سیاست کو محض امریکہ اور چین کی کشمکش کے بجائے ایک بڑے عالمی معاشی اور سفارتی تغیر کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

چین کے موجودہ مؤقف کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بیجنگ اپنی خارجہ پالیسی کو کسی ایک حکومت یا کسی ایک وقتی بحران کے ساتھ وابستہ نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک طویل المدت ریاستی حکمت عملی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ چین کی قیادت بار بار یہ مؤقف سامنے رکھتی ہے کہ دنیا کو یک قطبی بالادستی کے بجائے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھنا چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کو عالمی فیصلوں میں زیادہ آواز ملنی چاہیے۔ ہان ژینگ نے اقوام متحدہ میں بھی کثیر ملکی تعاون، عالمی ترقی اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر زور دیا، جبکہ چین کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ دنیا کو یک طرفہ اقدامات کے بجائے مذاکرات اور مشترکہ حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ یہ وہ تسلسل ہے جسے چین اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد قرار دیتا ہے اور جس کا تعلق صرف موجودہ امریکی حکومت سے نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری چینی سفارتی حکمت عملی سے ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان محصولات کا تنازع بھی اسی بڑے منظرنامے کا ایک اہم باب ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی کشیدگی دوبارہ بڑھی۔ امریکی محصولات کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر اقدامات کیے اور اہم معدنیات کی برآمدات پر پابندیوں اور نگرانی کے ذریعے اپنے معاشی اثر و رسوخ کو استعمال کیا۔ لیکن اس داستان کو صرف ایک ایسے مقابلے کے طور پر دیکھنا بھی درست نہیں، جس میں ایک فریق مسلسل دباؤ ڈالتا رہا اور دوسرا کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کئی مرتبہ شدید کشیدگی کے بعد مذاکرات کی طرف واپس آئے، محصولات میں کمی کے عارضی انتظامات ہوئے اور بعد میں تجارتی سمجھوتوں کی کوششیں بھی جاری رہیں۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون مکمل طور پر جھکا، بلکہ یہ ہے کہ عالمی معیشت میں اس کشمکش نے طاقت کے تصور کو کس حد تک تبدیل کیا ہے۔

چین کی اہمیت یہاں اس لیے بھی بڑھتی ہے کہ وہ صرف ایک بڑی برآمدی معیشت نہیں بلکہ عالمی پیداوار، سپلائی کے نظام، صنعتی خام مال، ٹیکنالوجی اور عالمی تجارت میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے محصولات عائد کیے جانے کے جواب میں چین کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے یہ دکھایا کہ آج عالمی اقتصادی طاقت صرف کرنسی یا فوجی قوت کا نام نہیں، بلکہ صنعتی صلاحیت، منڈی، پیداوار، ٹیکنالوجی، خام مال اور طویل المدت معاشی منصوبہ بندی بھی طاقت کے بڑے ستون ہیں۔ اس تناظر میں چین کی مزاحمت کو محض امریکہ کے خلاف سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ عالمی اقتصادی نظام میں طاقت کے نئے توازن کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

یہاں ایک اور اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیا دنیا امریکی کرنسی کے غلبے سے نکل چکی ہے؟ اس کا جواب ابھی اتنا سادہ نہیں ہے۔ امریکی ڈالر آج بھی عالمی مالیاتی نظام میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اسے ختم شدہ طاقت قرار دینا حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ چین، روس اور بعض دوسری طاقتیں تجارت، مالیاتی تعاون اور متبادل اقتصادی انتظامات کے ذریعے عالمی نظام کو زیادہ متنوع بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ برکس کی توسیع اور عالمی جنوب کی بڑھتی ہوئی سرگرمی اسی بڑے رجحان کا حصہ ہے۔ اس لیے موجودہ دور کو ڈالر کے فوری خاتمے کے بجائے عالمی مالیاتی طاقت کے بتدریج تنوع کے دور کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔

چین کی خارجہ پالیسی کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی اقتصادی طاقت کو سفارتی اثر و رسوخ کے ساتھ جوڑتا ہے۔ عالمی ترقی کے حوالے سے چین کی پیش کردہ عالمی ترقیاتی پہل بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ چین کے مطابق ترقی پذیر دنیا کے لیے بنیادی ضرورت صرف سیاسی نعروں کی نہیں بلکہ سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور انسانی صلاحیتوں میں اضافہ ہے۔ چین نے اقوام متحدہ کے فورم پر بھی ترقی کو عالمی ایجنڈے کے مرکز میں رکھنے کی بات کی ہے اور عالمی ترقیاتی پہل کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تعاون کو اپنی سفارتی ترجیحات میں نمایاں کیا ہے۔

اسی لیے شی جن پنگ کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کے لیے صرف واشنگٹن کے ساتھ اختلافات دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے وسیع تر تصور کو دیکھنا ہوگا۔ چین ایک ایسی دنیا کی بات کرتا ہے، جہاں کوئی ایک طاقت عالمی فیصلوں کی واحد مالک نہ ہو، جہاں ریاستوں کی خود مختاری کا احترام ہو، جہاں اقتصادی ترقی کو عالمی امن کے ساتھ جوڑا جائے اور جہاں ترقی پذیر ممالک کو عالمی نظام میں زیادہ نمائندگی حاصل ہو۔ چین کے اس مؤقف کے ناقدین بھی موجود ہیں اور چین کی اپنی عالمی معاشی اور سفارتی سرگرمیوں پر سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بیجنگ نے گزشتہ برسوں میں عالمی جنوب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال نے بھی اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے فوجی خطرات نے عالمی توانائی، تجارت اور معیشت کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ رواں سال کے بحران میں آبنائے ہرمز اور خطے کی دوسری اہم گزرگاہوں کو لاحق خطرات نے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کے بارے میں تشویش پیدا کی ہے۔ ایسے ماحول میں چین کا یہ مؤقف کہ اختلافات کو جنگ کے بجائے مذاکرات سے حل کیا جائے اور ریاستوں کی خود مختاری کا احترام کیا جائے، عالمی سفارت کاری کے ایک بڑے حصے میں اہم موضوع بن جاتا ہے۔ تاہم کسی بھی ایک ملک کو دنیا کے تمام تنازعات کے حل کا واحد ضامن قرار دینا بھی حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔

اقوام متحدہ کی حالیہ جنرل اسمبلی کا ایک انتہائی معنی خیز منظر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر کے دوران دیکھنے میں آیا، جب متعدد ممالک کے وفود احتجاجاً ایوان سے باہر چلے گئے اور نشستوں کی ایک بڑی تعداد خالی دکھائی دی۔ اس احتجاج میں ایران کے علاوہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، اردن، عراق، کویت، ملائیشیا، انڈونیشیا اور کئی دوسرے ممالک کے نمائندے شامل تھے۔ یہ منظر اس بات کی علامت ضرور تھا کہ غزہ اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کے حوالے سے اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر شدید سفارتی اختلافات موجود ہیں، لیکن اس واقعے کو صرف کسی ایک ملک کی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے پیچھے مختلف ممالک کے اپنے اپنے سیاسی اور اخلاقی مؤقف بھی موجود ہیں۔

اس تمام منظرنامے میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے اصل سبق کسی ایک طاقت کے کیمپ میں کھڑا ہونا نہیں بلکہ اپنی قومی ترجیحات کو واضح کرنا ہے۔ خارجہ پالیسی اگر قومی مفاد کے بجائے کسی بیرونی طاقت کی ترجیحات کا عکس بن جائے تو ریاست کے لیے طویل المدت مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح معاشی پالیسی اگر عام شہری کی قوت خرید، روزگار، صنعتی ترقی اور قومی پیداوار کو نظر انداز کردے تو محض بیرونی قرضے اور وقتی مالی سہارا کسی ملک کو مضبوط نہیں بنا سکتے۔ چین کے تجربے سے کم از کم یہ بحث ضرور سامنے آتی ہے کہ طویل المدت منصوبہ بندی، صنعتی پیداوار، ریاستی تسلسل اور عالمی تجارت میں اپنی جگہ بنانے کی کوششیں کسی بھی ملک کی معاشی خود مختاری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

چین کے موجودہ پیغام میں سب سے زیادہ نمایاں لفظ شاید ترقی ہے، مگر اس ترقی کو وہ امن سے الگ نہیں کرتا۔ چین کی سرکاری پالیسی میں بار بار یہ تصور سامنے آتا ہے کہ دنیا کے ممالک کو ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے مشترکہ ترقی کی طرف بڑھنا چاہیے۔ چین کی قیادت اقوام متحدہ کو عالمی معاملات کے لیے مرکزی پلیٹ فارم قرار دیتی ہے اور عالمی حکمرانی میں زیادہ مساوات کی بات کرتی ہے۔ یہ تصور عالمی سیاست میں ایک متبادل بیانیہ ضرور فراہم کرتا ہے، اگرچہ اس کی عملی کامیابی کا فیصلہ وقت اور نتائج ہی کریں گے۔

دنیا کے موجودہ حالات ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ اکیسویں صدی کی طاقت صرف میزائلوں اور فوجی اڈوں سے متعین نہیں ہوگی۔ آنے والے زمانے میں وہ ملک زیادہ اثرانداز ہوگا جو اپنی معیشت کو مضبوط کرے، اپنی صنعت کو ترقی دے، اپنی ٹیکنالوجی پیدا کرے، اپنے شہریوں کے لیے روزگار پیدا کرے، اپنی سفارت کاری میں تسلسل قائم رکھے اور عالمی تنازعات میں مکالمے کے لیے قابل اعتبار کردار ادا کرے۔ چین نے گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنی ریاستی حکمت عملی کو انہی بنیادوں پر آگے بڑھایا ہے اور آج اس کا اثر عالمی سیاست کے تقریباً ہر بڑے مسئلے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔

شی جن پنگ اور ہان ژینگ کی جانب سے عالمی سطح پر پیش کیا جانے والا چینی مؤقف اسی بڑے سفر کا تسلسل ہے۔ یہ مؤقف امریکہ کے خلاف محض ایک سیاسی تقریر نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کی تصویر پیش کرتا ہے، جس میں چین خود کو بڑی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے اور ساتھ ہی عالمی جنوب کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔ اس تصور کو قبول کرنا یا مسترد کرنا دنیا کے مختلف ممالک کا اپنا فیصلہ ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ عالمی طاقت کا توازن پہلے جیسا نہیں رہا اور اب دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں واشنگٹن کے ساتھ بیجنگ، ماسکو، نئی دہلی اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں بھی عالمی فیصلوں کے رخ پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

آخرکار چین کی اصل آزمائش بھی یہی ہے کہ جو امن، ترقی اور کثیر ملکی تعاون کی بات وہ دنیا کے سامنے کرتا ہے، اسے اپنی عملی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار میں کس حد تک ثابت کر پاتا ہے، اور امریکہ سمیت دوسری بڑی طاقتوں کی اصل آزمائش بھی یہی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال اور اقتصادی دباؤ کے بجائے مذاکرات اور عالمی اداروں کو کس حد تک اہمیت دیتی ہیں۔ دنیا کو آج کسی ایک نئے بادشاہ کی ضرورت نہیں۔ دنیا کو ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے، جہاں طاقت قانون کے تابع ہو، تجارت منصفانہ ہو، جنگ آخری راستہ ہو، ترقی سب کے لیے ہو اور چھوٹی ریاستیں بھی اپنی خود مختاری کے ساتھ زندہ رہ سکیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو موجودہ عالمی بحرانوں کے درمیان سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر رہا ہے اور شاید آنے والی دنیا کی اصل کشمکش بھی یہی ہوگی کہ طاقت کی سیاست جیتتی ہے یا تعاون کی سیاست۔



  تازہ ترین   
پی ٹی آئی واضح کرے وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا افغانستان کے ساتھ ؟ وفاقی وزرا
امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال
ٹانک: پولیس وین پر دہشت گردوں کا حملہ، فائرنگ سے 3 ٹریفک اہلکار شہید
شنگھائی تعاون تنظیم کا کوآرڈینیشن اجلاس، بھارتی وفد کی اسلام آباد آمد
امریکا کا آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ مسترد
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشتگرد ہلاک
ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعوے مسترد کر دیے
پاکستان کا افغان طالبان کو ڈی مارش، فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر