کبھی اپنے آپ سے بھی ملاقات ہو جائے

ایسے ہی آج خیال آیا کہ کبھی اپنے آپ سے بھی ملاقات ہوئی؟ جواب آیا: مدت ہوئی، اپنے آپ سے ملاقات کی فرصت ہی نہ ملی۔ مصروفیت تو زیادہ نہ تھی، پھر تساہل تھا یا غفلت۔ کچھ تو تھا جس نے اپنے آپ سے مدتوں ملاقات ہی نہ ہونے دی۔

انسان بھی کیا شاندار مخلوق ہے۔ سارا دن بظاہر مصروف، دوڑ دھوپ میں مگن؛ روزی روٹی کی فکر، عہدے اور منصب کے تقاضے بلکہ حفاظت کا دردِ سر، اولاد کی تعلیم اور شادی بیاہ کے جھنجھٹ، کہیں مکان کی تعمیر کی فکر تو کہیں ملازمت میں ترقی اور تبادلے کا مسئلہ۔ اپنے لیے تو وقت ہی نہیں بچتا۔

بقول منیر نیازی:

“کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں ترے لیے
تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا۔”

کیا ہم زمانے کی گردشِ لیل و نہار میں، زندگی کی سنگلاخ پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے اپنے آپ کو فراموش کر دیتے ہیں؟

جب بھی اس پر غور کیا تو جواب ملا کہ اپنا کیا ہے، کچھ بھی تو نہیں۔ خالی ہاتھ آئے تھے، خالی ہاتھ ہی جائیں گے۔ درمیانی پڑاؤ کے لیے سامان اکٹھا کرتے کرتے بوڑھے ہو گئے۔ کچھ سامان ضروری تھا اور بہت سا غیر ضروری۔ یہ ضروری اور غیر ضروری کی بحث بھی لاحاصل ہو جاتی ہے، جب یہ سب کچھ اپنا تھا ہی نہیں۔

یہ تو سب اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ملا، جو کچھ بھی ملا۔ اس کے علاوہ دے بھی کون سکتا ہے؟ بعض اوقات، بلکہ ذاتی طور پر اکثر، وہ ملا جس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اور اس مالکِ کائنات سے جب بھی دل کے خشوع اور نمناک آنکھوں سے کچھ مانگا، کائنات کے سب سے بڑے سخی نے عطا فرما دیا۔

مگر اس سب کے باوجود اپنے آپ سے کم کم ہی ملاقات رہی۔

پھر سوال اٹھا کہ چلیں، یہ تو سستی یا کوتاہی ہوگئی، کیا اپنے پیاروں اور چاہنے والوں سے ہی ملاقات ہوئی؟

ضرور ہوتی رہی، شاید دل کی بات نہ ہو سکی۔

وہ کیا ایک انڈین گانے کے بول تھے:

“دل کی دل میں ہی رہی، بات نہ ہونے پائی۔”

انسان کے گرد و پیش جو لوگ، جو رشتے اور جو تعلق ہوتے ہیں، ان سے بھی ہم ملاقات میں تساہل برت جاتے ہیں۔اور پھر ساری زندگی کا پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے۔

کیا ہم اپنے والدین کے پاس بیٹھ کر ان سے گپ شپ کرتے ہیں؟ ان کی بزرگانہ مگر معصوم باتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں؟ ان کا خیال رکھتے ہیں، یا انہیں بوجھ سمجھتے ہیں؟ جنہوں نے اپنی جوانی اور ادھیڑ عمری اپنی اولاد کی خوشیوں کے لیے قربان کر دی، کیا وہ ہماری توجہ کے بھی مستحق نہیں؟

کیا ہم کبھی اپنے بھائیوں کے ساتھ بچپن والے قہقہے لگاتے ہیں، یا جائیداد کے حساب کتاب میں سارے رشتے کھو چکے ہیں؟

وہ بہنیں جو کبھی بھائیوں پر وارے نیارے جاتی تھیں، کیا انہیں باپ کی وراثت سے محروم رکھنے کی کوشش میں ہم انہیں فراموش تو نہیں کر چکے؟ کیا کبھی اپنی اہلیہ کے خوف سے اپنی بہنوں کے لیے اپنے گھر کے دروازے بند تو نہیں کر دیے؟

کیا کبھی کسی غریب رشتہ دار کی دلجوئی کی؟ یا صرف امیر اور صاحبِ ثروت لوگوں کے پیچھے بھاگتے عمر برباد کر دی؟

مگر یہ تو خسارے کا سودا تھا۔

جب اتنی عمر گزرنے کے باوجود اپنے آپ سے ہی ملاقات نہ ہو سکی تو زندگی کا میزانیہ تو خراب ٹھہرا۔

اپنے آپ سے کس طرح اور کب ملاقات ممکن ہے؟

ذرا مشکل سوال ہے۔

کبھی تنہائی میں چند منٹ کے لیے آنکھیں موند لیں۔ اپنے آپ سے سوال کریں کہ زندگی کس طرح گزری؟ دوسروں میں خامیاں ڈھونڈتے اور اپنی ذات کی تشہیر کرتے گزری، یا غیر سنجیدہ انداز میں کھا پی کر گزار دی؟

کیا وہ کچھ کر سکے جس کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے دی تھی، یا اس کے برعکس منفی جذبات و خیالات کے ساتھ خلقِ خدا کو تنگ کرنے میں زندگی گزار دی؟

کیا جو ہم نظر آ رہے تھے، ہم تھے بھی؟ یا محض واہمہ تھا، تکلف تھا، بناوٹ تھی؟

کیا ہم اپنے آپ کو explore، یا کم از کم تلاش ہی کر پائے؟

جواب بڑے سے “نہیں” میں آئے گا۔

ایسا کیوں نہیں ہوتا؟

شاید ہم اپنے آپ کو نہ تلاش کرنا چاہتے ہیں، نہ اپنے آپ سے ملاقات۔

اسے زمانے کی ستم ظریفی کہیں یا اپنی خودسری، نالائقی کہیں یا تساہل، مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ جب تک انسان اپنے زندہ ہونے کی کوئی معقول وجہ تلاش نہیں کرتا، اپنے آپ سے ہمکلام ہو کر ملاقات نہیں کرتا، اپنے آپ کو دریافت نہیں کرتا، وہ محض گوشت پوست کا ایک ڈھیر ہی تو ہوتا ہے۔

اور وہ تو اس کیفیت کی سرشاری سے متعارف ہی نہیں ہو پاتا:

“کہ خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے۔”

ایک دن دل سے پوچھا: اپنے آپ سے ملاقات کیسے ممکن ہے؟

دل نے سرگوشی کی: پہلے اپنی “میں” کو تو مٹا۔

کہا: میرے پاس تو “میں” کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

دل نے پھر جھنجھوڑا:

“میں” ختم کر کے خالص بندہ بن کر آ، خود سے ملاقات ہو جائے گی۔

طریقہ تھوڑا مشکل ہے، مگر اکسیر ہے۔

دل کی باتیں دل میں رکھنا، پھر ان پر کڑھنا، تلملانا اور کبھی کبھی پچھتانا۔ کوئی بندے سے پوچھے: جو باتیں دل میں رکھ کر دوسروں سے کہہ نہیں سکتے، اپنے آپ سے کیوں نہیں کرتے؟ کبھی کرکے اور کبھی خود کو سنا کر تو دیکھو۔ ممکن ہے، وہ سراغ ہی پاسکو جس کی تلاش میں عمر گزار دی۔

اگر دل میں لوگوں کے لیے رنجشیں یا منفی جذبات ابھرتے ہیں تو کسی کو معاف کرکے دیکھ لو۔ اگر اپنی تلاش کرنا چاہتے ہو، تو مخلوق خدا سے پیار ،شفقت اور اسکی خدمت کرکے دیکھ لو۔

ممکن ہے کسی شکستہ دل میں تجھے اپنا عکس نظر آ جائے اور من کی تلاش کا سفر اختتام پذیر ہو۔

کہ: تیرا دل اگر” شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں۔ “



  تازہ ترین   
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 12 افراد شہید، 35 زخمی
فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم
بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید
بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے
افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار
امریکی صدر نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی
حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن، حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے: وزیراعظم
نیتن یاہو ہولناک نسل کشی کے معمار، فلسطینیوں بارے جھوٹ پھیلاتے ہیں، ظہران ممدانی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر