خوف :ٹرمپ کو کیٹرنگ ٹرک میں چھپ کر طیارہ تبدیل کرنا پڑا

واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں )امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 8جولائی کو ترکیہ میں نیٹو ممالک کے سربراہی اجلاس کے بعد روانگی کے وقت ٹرمپ نے ممکنہ ایرانی خطرے کے پیشِ نظر خفیہ طور پر اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر پہلے ٹی وی کیمروں کے سامنے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے لیکن بعد میں انھیں خاموشی سے ہوائی اڈے پر موجود ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک فوجی طیارے تک پہنچایا گیا۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی خفیہ طریقے سے دوسرے طیارے میں منتقلی سے ایئرفورس ون میں موجود صحافی اور حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس کے بعض عملے کے ارکان بھی لاعلم رہے ۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ایران کی جانب سے طیارے پر میزائل حملے کے ایک قابلِ اعتبار خطرے کی اطلاع ملی تھی۔تاہم وائٹ ہاؤس نے طیارہ خفیہ طور پر تبدیل کیے جانے کی ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے ۔خفیہ طریقے سے ٹرمپ کی دوسرے طیارے میں منتقلی ایک ایسے وقت ہوئی تھی حب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکانے ایران کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کیے تھے ۔ٹرمپ ترکیہ ایک نئے بوئنگ طیارے میں پہنچے تھے ، جو قطر کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا۔

، تاہم انھوں نے بعد میں اعلان کیا کہ وہ پرانی یادوں کی خاطر واپسی کے لیے پرانے ایئر فورس ون طیارے میں سفر کریں گے ۔آٹھ جولائی کو نشر ہونے والی ویڈیوز میں ٹرمپ کو انقرہ ہوائی اڈے پر صدارتی طیارے میں سوار ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بعد ازاں انھیں خفیہ طور پر ایک نسبتاً چھوٹے فوجی طیارے سی 32 اے میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ بوئنگ 757 کا ترمیم شدہ ماڈل ہے ، جو عموماً امریکی نائب صدر کے زیرِ استعمال رہتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو ہوائی اڈے کے کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ، جسے طیارے کے دروازے کی سطح تک بلند کیا گیا تھا، اس جانب سے منتقل کیا گیا جہاں ان کی بورڈنگ عوام کی نظروں سے اوجھل رہی۔اخبار کے مطابق وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بھی علیحدہ طور پر بیرونی سیڑھیوں کے ذریعے سی 32 اے طیارے میں سوار ہوئے تاکہ پرواز معمول کے مطابق نظر آئے اور کسی غیر معمولی حفاظتی اقدام کا تاثر نہ ملے ۔رپورٹس کے مطابق صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض عملے کے ارکان کو ایئر فورس ون میں سوار کر لیا گیا تھا اور انھیں مبینہ طور پر اپنی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ صدر ٹرمپ اب اس طیارے میں موجود نہیں ہیں۔بعد ازاں ٹرمپ برطانیہ روانہ ہوئے ، جہاں سے انھیں امریکا جانا تھا۔

برطانیہ پہنچنے پر وہ دوبارہ پرانے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے اور آر اے ایف ملڈن ہال پر طیارے کے اترنے کے بعد انھیں اس سے اترتے ہوئے دیکھا گیا۔تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ کو سی 32 اے فوجی طیارے سے دوبارہ روایتی ایئر فورس ون جہاز تک کس طریقے سے منتقل کیا گیا تھا۔بعد ازاں صدر ٹرمپ نے واشنگٹن واپسی کے سفر کے لیے قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے ایئر فورس ون طیارے میں پرواز کی۔اس پرواز کے دوران ٹرمپ نے اپنے ہمراہ موجود صحافیوں سے گفتگو کی۔ انھوں نے ایران کی جانب سے لاحق خطرات کا ذکر تو کیا، لیکن مبینہ طور پر اس سے قبل طیارہ تبدیل کرنے کے خفیہ آپریشن کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ ترکیہ سے روانگی کے وقت طیارے میں سوار صحافیوں کو کھڑکیوں کے پردے نیچے کرنے کی ہدایت کیوں دی گئی تھی، تو ٹرمپ نے جواب دیا کیونکہ جن لوگوں سے ہمیں نمٹنا پڑتا ہے ، ان کی وجہ سے آپ غالباً ایک خطرناک پرواز کر رہے تھے ۔انھوں نے مزید کہا کہ میری جان کو ہر وقت خطرات لاحق رہتے ہیں اور یہ کہ میں ایران کی مبینہ فہرست میں ان کا نمبر ون ہدف ہوں ۔ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں کہا لیکن اگر میرے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو پھر آپ بھی ساتھ ہی جائیں گے ، ٹھیک ہے ؟،پھر انھوں نے مزید کہا شاید کسی دن آپ لوگ اپنا پیشہ بدلنے کے بارے میں سوچیں۔وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے ان رپورٹس کی براہِ راست تصدیق یا تردید نہیں کی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ نیا ایئر فورس ون ایک جدید ترین طیارہ ہے ، جس میں صدر اور ان کے عملے کی حفاظت کے لیے جدید سکیورٹی انتظامات موجود ہیں۔سی بی ایس نیوز کی سابقہ رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے پہلے ہی ایک مخصوص خطرے سے خبردار کر چکے تھے کہ ٹرمپ یا ان کے زیرِ استعمال طیارے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اس سے قبل قطر کی جانب سے تحفے میں دئیے گئے صدارتی طیارے سے متعلق سکیورٹی خدشات پر بھی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سیکرٹ سروس نے نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر ٹرمپ کو اپنا طیارہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔اس رپورٹ کے بعد اخبار کے متعدد صحافیوں کو حلف کے تحت گواہی دینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ بعد میں امریکی محکمہ انصاف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خفیہ معلومات کی مبینہ غیر قانونی لیک کی تحقیقات کر رہا ہے ۔دوسری جانب ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے خدشات پر ٹرمپ کے گالف کلب پر فضائی دفاعی نظام نصب کردیا گیا۔امریکی دفاعی نیوز ویب سائٹ دی وار زون کے مطابق امریکی ریاست نیو جرسی کے علاقے بیڈمنسٹر میں واقع ٹرمپ کے گالف کلب کی ایسی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں امریکی صدر کے گالف کھیلنے کے دوران وہاں فضائی دفاعی نظام نصب ہے ۔دی وار زون کے مطابق یہ ویڈیوز اور تصاویر گزشتہ اتوار کی ہیں جب ٹرمپ نیو جرسی میں اپنے گالف کورس پرگالف بیڈمنسٹر ٹورنامنٹ کے فائنل راؤنڈ میں موجود تھے ۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو گالف کلب میں دکھانے والی ویڈیو کے پس منظر میں مختصر فاصلے کا فضائی دفاعی نظام ایونجرنظر آرہا ہے ۔ دیگر فوٹیجز میں سینٹینل فضائی دفاعی ریڈار بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔



  تازہ ترین   
نوجوانوں کو جدید علوم سے نہ جوڑا تو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے : وزیراعظم
تجارتی جہازوں پر حملے قابل مذمت، بحری اتحاد کے معاہدے پر عملدرآمد کیلئے تیار ہیں: دفتر خارجہ
محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، وزیراعظم، فیلڈ مارشل کا اہم پیغام پہنچایا
اسحاق ڈار کی بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق
ایل اے 17 حویلی سے پیپلزپارٹی کے فیصل راٹھور کامیاب، سرکاری نتیجہ جاری
پاکستان کا غزہ کی صورتحال پر اظہار تشویش، فلسطینیوں کو فوری تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
ایران کو خطرہ ہوا تو عالمی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے، پاسداران انقلاب
جڑواں شہروں میں شدید بارش، نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند، شہریوں کا انخلاء شروع





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر