تل ابیب(نیشنل ٹائمز)ایک اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر اسرائیل نے ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے ، ان حملوں میں صرف میزائل اور ڈرون ہی نہیں بلکہ خطے میں موجود ایران کے اتحادی گروہوں کی کارروائیوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔
اسرائیلی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ختم ہونے کے بعد اسرائیل کے اندر اور بیرونِ ملک سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے ۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب نے امریکا کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کی تجویز مسترد کر دی۔عہدیدار نے کہا کہ جنگ میں اسرائیل کی شمولیت کا انحصار ایران کے ردِعمل پر ہوگا۔ اگر ایران اسرائیل کو نشانہ بناتا ہے تو اسرائیل کے جنگ میں براہِ راست مداخلت کرنے کا قوی امکان ہے ۔



