اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے سرکاری ملازمین کے حوالے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کر تے ہوئے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ فیصلے پر نظرثانی کی جائے ،اپنے بیان میں پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے 1996 سے لیکر 2007 کے عرصے کے دوران جبری طور برطرف ملازمین کو بحال کرکے ان سے کی جانے والی ناانصافی کا ازالہ کرتے ہوئے انہیں معاشی ریلیف دیا تھا تاکہ وہ اپنے گھروں کے چولہے جلانے اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے قابل ہو سکیں، اور معاشی مشکلات سے نکل سکیں ۔ سید نیر حسین بخاری نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ جیسے سپریم کورٹ نے کانسٹیٹیوشن ایوینیو ون جس میں عمران خان اور دیگر بڑے لوگوں کو جن میں جنرل بھی شامل تھے کو تھرڈ پارٹی تسلیم کرکے ریلیف دیا تھا سپریم کورٹ ان بڑے لوگوں کی طرح ان غریب سرکاری ملازمین کو دے ، سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ آج کورونا کی وجہہ سے لوگ بیروزگار ہیں اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہہ سے ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ، پیپلزپارٹی کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ ان سرکاری ملازمین کو 1996 سے لیکر 2007 تک سیاسی اور معاشی انتقام کا نشانہ بنایا گیا تھا ، نیر بخاری نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرکے ان سرکاری ملازمین کی زندگیاں بچائے ۔
سید نیر حسین بخاری نے سرکاری ملازمین کے حوالے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر سخت تشویش کا اظہارکر دیا



