بیجنگ(نیشنل ٹائمز) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے آج دوبارہ ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ شاندار تجارتی معاہدے کیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ بات چیت مثبت اور تعمیری رہی، اچھے تجارتی معاہدے کیے ہیں، ہم ایران کے بارے میں ایک جیسا محسوس کرتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں آبنائے ہرمز کھلی رہے، ہم نے بہت سے مسائل کا حل نکال لیا ہے،جو کوئی نہیں کر سکتا تھا۔
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں اشارہ دیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کی تلاش بنیادی طور پر سیاسی ساکھ اور عوامی دکھاوے (آپٹکس) کے لیے تھی جبکہ اسرائیل نے اسے جنگی ہدف بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ یورینیم مجھے مل جائے تو درحقیقت مجھے زیادہ بہتر محسوس ہو گا، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ کسی بھی دوسری چیز کے مقابلے میں عوامی ساکھ کے لیے زیادہ ہے۔
ایران معاہدہ کرے یا تباہی کے لیے تیار رہے: ٹرمپ
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران یا تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے یا مکمل تباہی کے لیے تیار رہے، امید ہے ایران میرا پیغام سن رہا ہوگا، امریکہ کو معلوم ہے ایران نے اپنے ہتھیار کہاں منتقل کیے ہیں، جانتے ہیں کچھ میزائل زیرِ زمین تنصیبات سے نکالے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سب ایک دن میں ختم ہو جائے گا، موجودہ ایرانی قیادت ماضی کے مقابلے میں زیادہ معقول ہے، نئی ایرانی قیادت پہلے اور دوسرے درجے کے ان عہدیداروں سے زیادہ ذہین ہے جو اب موجود نہیں۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ 28 فروری سے ایران پر حملے کا حکم دیا تھا، نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی کیونکہ حساس جوہری مواد کو ملک سے باہر نکالنا ضروری ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہُرمز کو کھلا رکھنے میں چین کی مدد کی پیش کش کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں فوجی سازوسامان فراہم نہیں کریں گے۔



