بڑی مچھلیوں کو قانون کے کٹہرےمیں لانے اور میگاکرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہیں، نیب اعلامیہ

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)قومی احتساب بیورو (نیب) نے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں پہلی بار ان افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا ہے جن کو کوئی چھو نہیں سکتا تھا، نیب نے اپنے قیام سے اب تک بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 816.793 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔نیب اعلامیے کے مطابق کرپشن سنگین چیلنج ہے جو کہ معاشرے کے مالی وسائل کو کھا جاتا ہے اور ملک میں سماجی و معاشی تفریق کو فروغ دیتا ہے۔ نیب کو 1999 میں ملک سے بد عنوانی کے خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے لئے قائم کیا گیا۔ جسٹس جاوید اقبال کےبطور چیئرمین نیب عہدہ سنبھالنے کے بعد نیب نے 3 سال قبل انسداد بدعنوانی کی جامع حکمت عملی اختیار کی جو کہ آگاہی ، تدارک اور انفورسمنٹ کے ساتھ ساتھ احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر مبنی تھی جس کے شاندار نتائج آئے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، عالمی اقتصادی فورم، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور مشال پاکستان جیسے معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے نیب کی انسداد بد عنوانی کی کوششوں کو سراہا ہے ۔ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی دانشمندانہ قیادت میں نیب نے پہلی بار ان لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا ہے جن کوپہلے کوئی نہیں چھو سکتا تھا۔ نیب نے گزشتہ 3 سال کے عرصہ کے دوران بد عنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 533 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جو کہ گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں نیب کی شاندار کامیابی ہے۔ نیب کو اپنے قیام سے اب تک 4 لاکھ 96 ہزار 460 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 4 لاکھ 87ہزار 124 شکایات کو نمٹایا گیا۔ نیب نے 16 ہزار 93 شکایات کی جانچ پڑتال کی منظوری دی ، 15 ہزار 378 شکایات کی جانچ پڑتال مکمل کی گئی۔ نیب نے 10 ہزار 241 انکوائری کی منظوری دی جن میں سے 9275 کو مکمل کیا گیا۔ نیب نے 4 ہزار 654 انویسٹی گیشن کی منظوری دی جن میں سے 4 ہزار 358 انویسٹی گیشن کو مکمل کیاگیا۔ نیب نے اپنے قیام سے اب تک بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 816.793 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔نیب نے اس عرصہ کے دوران مختلف احتساب عدالتوں میں 3 ہزار 754 بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے ہیں جن میں سے 2 ہزار 477 کا فیصلہ معزز احتساب عدالتوں نے کیا ہے۔ اس وقت نیب کے 1277 بدعنوانی کے ریفرنسز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت 1335.019 ارب روپے بنتی ہے۔ نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بڑی مچھلیوں کو قانون کے کٹہرےمیں لانے اور میگاکرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہے۔ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کافوکل ادارہ ہے۔ نیب کو سارک اینٹی کرپشن کا پہلا چیئرمین منتخب کیاگیا ۔ نیب نے پاکستان میں جاری سی پیک منصوبوں کی نگرانی کے لئے چین کےساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ نیب نے ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر انکوائریوں اور انویسٹی گیشن میں بہتیر لانے کے لئے اور سینئر سپر وائزری کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔نیب نے جدی فرانزک سائن لیبارٹری کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک ، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزییے کی سہولت موجود ہے ۔ ان اقدامات سے نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ نوجوان ہمارا مستقبل ہے ۔ نیب نے نوجوانوں کو اویل عمری میں بدعنوانی کے برے اثرات سے بچانے کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ اس اقدام کے تحت نیب نے ملک بھر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کردارسازی کی 50 ہزار سے زائد انجمنیں قائم کی ہیں۔ نیب نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی مشاورت سے اداروں میں خامیوں کی نشاندہی اور بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے پروینشن کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ نیب نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے جامع معیاری نظام وضع کیا ہے۔ انفورسمنٹ حکمت عملی کے تناظر میں چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے مقدمات کو نمٹانے کے لئے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے جن میں شکایات کی جانچ پڑتال کے لئے 2ماہ ، انکوائری کے لئے 2 ماہ اور انویسٹی گیشن کے لئے 4 ماہ کا عرصہ مقرر کیاگیا ہے۔ نیب نے تمام علاقائی بیوروز میں وٹنس ہینڈلنگ سیلز بھی قائم کئے ہیں ۔ اس اقدام کے باعث نیب ٹھوس دستاویزی شواہد کی بنیاد پر عدالتوں میں اپنے مقدمات کی بھرپور پیروی کررہا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے پاکستان سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے نیب کو فعال بنا دیا ہے۔ اب نیب بلاامتیاز کارروائیاں کر رہا ہے۔ بااختیار شخصیات کے خلاف کارروائیوں سے نیب کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ نیب کا مقصد بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنا اور ان سے لوٹی گئی رقوم کو قومی خزانہ میں جمع کرانا ہے۔ اس تناظر میں نیب افسران سخت محنت ، میرٹ اور شفافیت پر عمل پیرا ہیں۔ نیب افسران بدعنوانی کے خلاف جنگ کو قومی فریضہ سمجھ کر ادا کررہے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کا 40 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے سیشن جج کوئٹہ سے اپنے کیریئر کاآغاز کرکے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے طور پر فرائض سرانجام دیئے ۔ وہ دیانتدار، عزت و احترام کے ساتھ بے مثال اور متوازن شخصیت رکھتے ہیں۔ وہ انسانیت کی عزت نفس پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی فرد کو کے وقار کو نقصان پہنچانے پر یقین نہیں رکھتے ۔ چیئرمین نیب کی ہدایت پر تمام علاقائی بیوروز میں من و عن عمل کیا جا رہاہے ۔نیب قانون پر عمل کرتے ہوئے سب کااحتساب یقینی بناتے ہوئے بدعنوانی کےخاتمہ پریقین رکھتے ہیں۔ چیئرمین نیب کی قیادت میں گزشتہ 3سال سے زائد عرصہ کے دوران نیب کی شاندار کارکردگی کے نتائج آئے ہیں۔ ہمیں کینسر کے خلاف جنگ میں اجتماعی کردار ادا کرنا ہو گا جو کہ ہمارے معاشرے کے اخلاقی اقدار کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ ہمیں نسل نو کے لئے بہترین اور خوشحال پاکستان چھوڑنا چاہیے۔



  تازہ ترین   
انصاف، وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: ایران
سیز فائر کی ڈیڈ لائن طے نہیں، وقت کا تعین کمانڈ ان چیف کرینگے: وائٹ ہاؤس
جنگی صورتحال میں بروقت اقدامات سے توانائی بحران پیدا نہیں ہوا: وزیراعظم
ایل این جی دستیابی کے بعد پیک ٹائم لوڈ مینجمنٹ کم ہو سکتی ہے: پاور ڈویژن
امریکا 6 ماہ تک آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکتا: پینٹاگون کا اعتراف
پہلگام فالس فلیگ: بھارت ایک سال بعد بھی آئی ایس پی آر کے سوالات کا جواب نہیں دے سکا
آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کی وجہ امریکی و اسرائیلی جارحیت ہے: عراقچی
پاکستان میں امریکا–ایران مذاکرات 36 سے 72 گھنٹوں میں متوقع، ڈونلڈ ٹرمپ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر