این سی اے کی فریاد

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

صاحبانِ ذوق اور اربابِ نظر کی خدمت میں عرض ہے کہ لاہور کی مال روڈ پر سرخ اینٹوں کی ایک عمارت صدیوں کی کہانی اپنے سینے میں چھپائے کھڑی ہے اور آج اس کہانی کا ایک ورق پھاڑنے کی تیاری ہو رہی ہے یہ وہ درسگاہ ہے جسے دنیا نیشنل کالج آف آرٹس کے نام سے جانتی ہے اور جس کی جڑیں انیسویں صدی کے اس میو سکول آف آرٹس میں پیوست ہیں جو انیس سو پچھتر میں قائم ہوا۔
یہ ادارہ لارڈ میو کی یاد میں قائم ہوا اور اس کے پہلے پرنسپل جان لاک وڈ کپلنگ مقرر ہوئے جو آگے چل کر مشہور ادیب رڈیارڈ کپلنگ کے والد کہلائے کپلنگ نے اٹھارہ سو ترانوے تک اس چمن کی آبیاری کی ان کے ساتھ بھائی رام سنگھ جیسا نابغہ بھی تھا جس کے ہنر نے اس خطے کی کئی شاندار عمارتوں کو حسن بخشا مغل اور برصغیر کے دست کاری کے ورثے کو جدید فنی تعلیم کے ساتھ جوڑنے کا جو خواب اس درسگاہ کی بنیاد میں رکھا گیا تھا وہ برسوں میں تعبیر پاتا چلا گیا انیس سو اٹھاون میں اسے نیشنل کالج آف آرٹس کا نام ملا اور یوں یہ ملک کی پہچان بن گیا۔
یہ محض ایک کالج نہیں بلکہ تہذیب کے تسلسل کی ایک زندہ علامت ہے اس کی دیواروں میں تاریخ کی سانسیں آباد ہیں اس کے برآمدوں میں فن کے کئی موسم گزرے ہیں اس کے کمروں میں ایسے خوابوں نے آنکھ کھولی جنہوں نے بعد میں دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں پاکستان کی شناخت کو روشن کیا یہ عمارت اپنی جگہ ایک خاموش کتاب ہے جس کے ہر صفحے پر کسی استاد کی محنت کسی شاگرد کی لگن اور کسی فنکار کے خواب کی داستان رقم ہے اس چمن سے وہ پھول کھلے جن کی خوشبو سرحدوں سے باہر تک پہنچی مصورِ مشرق عبدالرحمٰن چغتائی اسی درسگاہ کے فیض یافتہ تھے جنہوں نے برصغیر کی مصوری کو ایک منفرد اسلوب عطا کیا بعد کے زمانوں میں شازیہ سکندر رشید رانا اور عمران قریشی جیسے نام عالمی منظرنامے پر ابھرے جن کے فن پارے دنیا کی بڑی نمائش گاہوں کی زینت بنتے ہیں یہ سب اسی آنگن کی مٹی سے اٹھے اور اسی کے نام کا سکہ دنیا بھر میں چلتا ہے
یہاں سے فارغ ہونے والے فنکار محض اپنے لیے شہرت نہیں کماتے بلکہ اپنے وطن کی تہذیبی شناخت کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں ان کے رنگوں میں پاکستان کی تاریخ بولتی ہے ان کے خطوط میں اس خطے کی روایت جھلکتی ہے اور ان کے فن میں وہ تہذیبی رشتہ دکھائی دیتا ہے جو نسلوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے یہی وہ سرمایہ ہے جسے کسی میزان میں تولا نہیں جا سکتا اور جس کی قیمت کسی تجارتی معاہدے میں مقرر نہیں کی جا سکتی۔
اساتذہ کا ذکر کیجیے تو دل عقیدت سے بھر آتا ہے شاکر علی جیسے صاحبِ بصیرت استاد نے اس ادارے کو جدید مصوری کی راہ دکھائی انور جلال شمزا ظہور الاخلاق کولن ڈیوڈ اور خالد اقبال جیسے اساتذہ نے نسلوں کی تربیت کی اور سلیمہ ہاشمی نے برسوں تک علم و فن کی شمع روشن رکھی ان لوگوں نے محض رنگ اور برش کا استعمال نہیں سکھایا بلکہ دیکھنے کا سلیقہ سوچنے کا قرینہ اور فن کو عبادت سمجھنے کا حوصلہ بخشا یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہاں کے اساتذہ اپنے پیشے سے لگن اپنے شاگردوں سے محبت اور اپنی علمی دیانت کے اعتبار سے ملک بھر میں ممتاز مقام رکھتے ہیں اور ان کے طلبہ و طالبات بلاشبہ پاکستان کے ذہین ترین نوجوانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ وہ استاد ہیں جنہوں نے اپنے شاگردوں کو صرف تصویر بنانا نہیں سکھایا بلکہ تصویر کے پیچھے چھپی حقیقت کو پہچاننے کا ہنر بھی دیا انہوں نے بتایا کہ فنکار کی آنکھ صرف منظر نہیں دیکھتی بلکہ معاشرے کے دکھ سکھ اور تضادات بھی پڑھتی ہے ایک اچھا مصور اپنے زمانے کا گواہ ہوتا ہے اور ایک اچھی درسگاہ اپنے زمانے کے شعور کو اگلی نسل تک منتقل کرتی ہے ایسی درسگاہوں کو کمزور کرنا دراصل معاشرے کے شعور کو کمزور کرنا ہے دنیا کے وہ تمام ممالک جو فن اور ثقافت سے رغبت رکھتے ہیں اس درسگاہ اور اس کے فارغ التحصیل فنکاروں کا دل سے احترام کرتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ جس چیز کی قدر پردیس میں ہے اس کی ناقدری اپنے ہی دیس میں ہو رہی ہے اطلاعات کے مطابق کچھ عرصہ قبل ٹولنٹن مارکیٹ کی عمارت کو کالج کا حصہ قرار دیا گیا تھا جہاں طلبہ کی نمائشیں منعقد ہوتی رہیں وہی نمائشیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملتی ہے اب اچانک کالج کو نوٹس موصول ہوا ہے کہ اس عمارت کو فوری طور پر خالی کر دیا جائے یہ خبر اہلِ فن پر بجلی بن کر گری ہے کیونکہ یہاں کوئی تجارتی سرگرمی نہیں ہو رہی تھی کوئی دکان داری نہیں تھی کوئی نفع اندوزی نہیں تھی یہ جگہ تو تعمیری اور مثبت سرگرمیوں کا مرکز بن چکی تھی جہاں نوجوان اپنے خوابوں کو رنگ دیتے تھے اور معاشرے کو اس کا روشن چہرہ دکھاتے تھے یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر کسی تاریخی عمارت کو ایک تعلیمی ادارے کے استعمال میں دے کر اس کی رونق بحال کی گئی ہو تو پھر اسے اچانک خالی کرانے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی کیا اس عمارت کے استعمال سے کوئی عوامی نقصان ہو رہا تھا کیا وہاں کوئی ایسا کاروبار قائم تھا جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا تھا یا پھر یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ فن اور تعلیم کی ضرورت حکومتی ترجیحات میں کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے اربابِ اختیار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نمائش گاہیں کسی ادارے کی عیاشی نہیں ہوتیں بلکہ فنونِ لطیفہ کی تعلیم کا بنیادی حصہ ہوتی ہیں ایک طالب علم اپنی تخلیق کو عوام کے سامنے پیش کرتا ہے تو اسے تنقید اور پذیرائی دونوں سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے یہیں سے فنکار کا اعتماد بنتا ہے اور یہیں سے اس کی شناخت پیدا ہوتی ہے اگر ایسے مواقع چھین لیے جائیں تو صرف ایک عمارت خالی نہیں ہوتی بلکہ ایک پوری نسل کے خوابوں کو محدود کر دیا جاتا ہے افسوس کہ پنجاب حکومت کا چلن اب یہی دکھائی دیتا ہے کہ جس چیز میں عوامی فائدہ ہو اسے سبوتاژ کر دیا جائے جہاں تجارت کی بو آئے وہاں فیصلے آناً فاناً ہو جاتے ہیں اور جہاں علم و فن کی خوشبو ہو وہاں نوٹس تھما دیے جاتے ہیں خدشہ ہے کہ اس عمارت کو بھی کمرشل مفادات کی نذر کر دیا جائے گا۔
ناصر باغ کا حشر ہمارے سامنے ہے تاریخی باغ تھا جس میں دہائیوں پرانے شجر سایہ فگن تھے وہ درخت کاٹ دیے گئے وہاں پارکنگ پلازے کھڑے ہو گئے اور جگہیں من پسند لوگوں کو الاٹ کر دی گئیں پورا لاہور جدت کے نام پر اپنا جغرافیہ بدلتا جا رہا ہے وہ شہر جو باغوں اور تہذیب کا شہر کہلاتا تھا اب کنکریٹ کا جنگل بنتا جا رہا ہے اور یہ سوال دل کو کچوکے دیتا ہے کہ آخر حکومت چاہتی کیا ہے
شہر صرف سڑکوں پلوں اور بلند عمارتوں سے ترقی یافتہ نہیں ہوتے ان کی اصل پہچان ان کے باغات ان کی تاریخی عمارتیں ان کے تعلیمی ادارے اور ان کی تہذیبی روایتیں ہوتی ہیں جس شہر سے اس کی تاریخ چھین لی جائے وہ شہر رہ تو جاتا ہے مگر اس کی روح کہیں کھو جاتی ہے لاہور کی شناخت صرف اس کی آبادی یا کاروبار نہیں بلکہ اس کی ادبی محفلیں اس کے تاریخی باغات اس کے عجائب گھر اور اس کے فنون کے ادارے ہیں ان سب کو کمزور کر کے ترقی کا دعویٰ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی درخت کی جڑیں کاٹ کر اس کے سرسبز ہونے کی امید رکھی جائے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کا طرزِ حکمرانی شاہانہ دکھائی دیتا ہے گویا یہ مان لیا گیا ہے کہ آلِ شریف اور آلِ رائیونڈ کا اقتدار ہمیشہ قائم رہے گا حالانکہ تاریخ کا سبق اس کے برعکس ہے ان سے پہلے بھی کتنے ہی وزرائے اعلیٰ آئے اور اس کرسی پر مستقل نہ رہ سکے یہ بھی چلے جائیں گے کرسی کسی کی نہیں ہوتی اور وقت کسی کا لحاظ نہیں کرتا حکمرانوں کو شاید یہ گمان ہو کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر کیے گئے فیصلے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں مگر تاریخ کا حافظہ کسی سرکاری دفتر کی فائل سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے وہ ہر فیصلے کو محفوظ رکھتی ہے اور وقت آنے پر اس کا حساب بھی سامنے لے آتی ہے جو حکمران عوام کے اداروں کو مضبوط کرتے ہیں وہ عزت پاتے ہیں اور جو اپنے اقتدار کی خاطر قومی ورثے کو کمزور کرتے ہیں ان کے ناموں کے ساتھ وقت خود فیصلہ لکھ دیتا ہے۔
تعلیمی نظام اور صحت کے شعبے کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا لوگ اسے عمر بھر یاد رکھیں گے مگر یاد رکھنے کا انداز وہ نہ ہو گا جس کی حکمرانوں کو آرزو ہوتی ہے تاریخ کے اوراق میں ایسے ناموں کو برے القاب سے یاد کیا جاتا ہے ان کے لیے کوئی دعا گو نہیں ہوتا اور آنے والی نسلیں ان کے فیصلوں کا حساب مانگتی ہیں یہ بھی ایک عجب تماشا ہے کہ اپنے مفاد کے لیے قوانین میں ترمیم لمحوں میں ہو جاتی ہے اپنی چیزیں باقاعدہ بنا لی جاتی ہیں اور جہاں اپنا فائدہ نہ ہو وہاں اداروں کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے اگر یہی چلن رہا تو کل کوئی مصور کوئی مجسمہ ساز کوئی خطاط اس شہر کو اپنا نہ کہہ سکے گا۔
یہ محض ایک عمارت کے خالی کرانے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ ہمارے ہاں علم اور فن کی قدر کس درجے میں باقی رہ گئی ہے کیا ہم اپنے بچوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان کے خوابوں کے لیے جگہ نہیں مگر کاروبار کے لیے ہر دروازہ کھلا ہے کیا ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کتاب قلم رنگ اور تخلیق کی اہمیت اس وقت تک ہے جب تک وہ کسی طاقتور کے مفاد سے متصادم نہ ہو جائے اگر یہی پیغام دیا گیا تو پھر ہم کس بنیاد پر ایک روشن مستقبل کی امید رکھیں گے۔اربابِ اختیار سے دست بستہ گزارش ہے کہ ہوش کے ناخن لیں یہ عمارتیں زمین کے ٹکڑے نہیں قوم کا ورثہ ہیں یہ اینٹیں کپلنگ اور بھائی رام سنگھ کے خوابوں کی گواہ ہیں شاکر علی کے قدموں کی چاپ ان دیواروں میں اب بھی گونجتی ہے ان کو منہدم کرنا فن کی تاریخ کو منہدم کرنا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے کو محض انتظامی کارروائی سمجھ کر نہ دیکھے بلکہ اسے قومی ثقافت اور تعلیمی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن مسئلہ سمجھے اگر عمارت کے استعمال پر کوئی قانونی یا انتظامی اعتراض ہے تو اس کا حل مذاکرات اور متبادل انتظام میں تلاش کیا جائے طلبہ اور اساتذہ کو بے دخل کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نئے مسئلے کو جنم دینا ہے متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ کالج کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے اس عمارت کے مستقل تعلیمی استعمال کے لیے واضح اور شفاف فیصلہ کریں۔
خدا کا خوف کریں اپنے دلوں میں رحم کا جذبہ پیدا کریں ہر شے کو تجارت کے ترازو میں نہ تولیں اور اس درسگاہ کے طلبہ و اساتذہ کو ان کا حق دیں کہ یہی لوگ اس ملک کا اصل سرمایہ ہیں اور یہی کل اس کا نام روشن کریں گے۔
حکمرانوں کے لیے یہ نوشتۂ دیوار ہے کہ اقتدار عارضی ہے مگر ورثہ مستقل ہے کرسی چھن جاتی ہے منصب بدل جاتے ہیں مگر قومی اداروں کے ساتھ کیا گیا سلوک تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے اگر آج فن کی درسگاہوں کے دروازے بند کیے گئے تو کل تاریخ کے دروازے بھی ان حکمرانوں کے لیے بند ہو سکتے ہیں۔ یہ عمارت اینٹوں کا مجموعہ نہیں یہ لاہور کی تہذیب کا ایک روشن باب ہے یہ ان خوابوں کی امانت ہے جنہیں ہمارے بزرگوں نے اپنی محنت سے سینچا ہے اسے بچانا صرف این سی اے کے طلبہ اور اساتذہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر اس شخص کا فرض ہے جو اس شہر کی تاریخ سے محبت کرتا ہے اور اپنے وطن کو علم فن اور شعور کی روشنی میں آگے بڑھتا دیکھنا چاہتا ہے
خدارا اس فریاد کو سن لیجیے اس عمارت کو اس کے اصل مقصد کے لیے باقی رکھیے کیونکہ اگر فن کی درسگاہیں بے گھر ہو گئیں تو پھر اس ملک کے خواب بھی بے گھر ہو جائیں گے۔



  تازہ ترین   
این اے 77 گوجرانوالہ اور پی پی 203 چیچہ وطنی میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا آغاز
جے ڈی وینس کی آئندہ الیکشن کیلئے الگ سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوششیں تیز
ایران نے میزائل اور ڈرون کی پیداواری لائنیں زیر زمین منتقل کر دیں، پاسداران انقلاب
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ لگ گئی
نیتن یاہو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر، گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت
سعودی وزیر خارجہ کے قطر اور مصر کے ہم منصبوں سے رابطے، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
عوام پر ایک اور بوجھ، بجلی فی یونٹ 2 روپے 36 پیسے مہنگی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر