قرآن کریم کی سورہ الشعراء میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کچھ دعائیں اور کچھ خوبصورت مکالمے اللہ تعالٰی سے معانی و مفاہیم کا سمندر لئے ہوئے ہیں۔ کیا خوبصورت اور پراثر دعا ہے، کہ اے اللہ مجھے اس روز رسوا نہ کرنا جس روز لوگ دوبارہ زندہ کر کے اٹھائیں جائیں گے۔ اگر کسی بھی بندے کو یہ یقین ہو کہ اس نے یوم حشر دوبارہ زندہ اٹھایا جانا ہے، اور خالق کائنات کے سامنے پیش ہونا ہے، اور پوری دلگیری، دل گرفتگی اور نمناک آنکھوں سے یہ دعا مانگے کہ یا اللہ اس روز رسوائی سے بچانا اور اس یقین سے مانگے کہ جس اللہ سے یہ دعا مانگ رہا ہوں، وہی اس رسوائی سے بچا سکتا ہے, تو نتیجہ انشاءاللہ مثبت ہی آئے گا۔ پھر اسی سورہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے مختصر الفاظ میں اللہ تعالٰی سے کچھ مکالمے کرتے ہیں۔ یہ سبھی الفاظ اتنے بامعنی اور پر لطف ہیں، کہ انہیں پڑھ کر طبیعت میں ایک خاص قسم کا جذبہء تشکر پیدا ہوتا ہے، کہ اللہ تعالٰی ہم پر کس قدر مہربان ہے، اور کتنی نعمتوں سے اس نے انسانوں کو سرفراز فرما رکھا ہے۔ اب ذرا ان مکالموں سے لطف اندوز ہوں۔ “” وہی اللہ ہے، جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے راستہ دکھاتا ہے۔”” اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ “” اور جب میں بیمار ہوتا ہوں ، تو مجھے شفا دیتا ہے۔ “” اور وہی مجھے موت دے گا، اور پھر مجھے زندہ کرے گا۔ “” اور جس سے مجھے امید ہے ، کہ وہ روز جزا میری خطائیں معاف فرما دے گا۔ “” اے اللہ مجھے حکمت و دانائی عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ شامل فرما۔ “” اور مجھے ایسا پاکیزہ دل عطا فرما کہ جس کے ساتھ میں تیرے حضور حاضر ہو سکوں۔”” متزکرہ بالا دعاؤں اور مکالموں کے ایک ایک لفظ پر غور کرتے جائیں، اپنے عاجز ہونے اور اللہ تعالٰی کی حاکمیت ، اسکی بے پایاں عنایات اور رحمت و بخشش پر دل کے اندر ایک عجب سپردگی اور شکرگزاری کی لہر ابھرے گی۔ کیا معنی خیز انداز ہے، کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں، تو اللہ مجھے شفا دیتا ہے۔ ان مکالموں میں باقی ساری عنایات خداوندی اللہ تعالٰی کی طرف منسوب ہورہی ہیں، مگر بیماری کو انسان کی طرف منسوب کیا جارہا ہے، کہ بندہ بیمار خود ہوتا ہے، اور شفا اللہ تعالٰی دیتے ہیں ۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے، کہ بیمار ہونا ایک نقص ہے، اور اللہ تعالٰی یہ نقص اور خامی اپنے ذمہ نہیں لے رہا، کہ یہ شان خداوندی کے خلاف ہے۔ ہاں البتہ جن نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے، وہ اسکی طرف سے عنایت ہو رہی ہیں۔ یہ وہی آیت ہے، جو ہمارے ہاں ہر ہسپتال کی پیشانی پر کندہ ہوتی ہے، مگر ہم اسے صرف پڑھتے ہیں، غور و فکر نہیں کرتے۔ اس سورہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبانی یہ مکالمے اور دعائیں ہمیں غور وفکر اور اللہ تعالٰی کے سامنے ہر لمحہ شکر گزاری کی دعوت دے رہے ہیں۔
سورہ الشعراء کے فکر انگیز مکالمے اور دعائیں



