کیموتھراپی کے مقابلے میں بیماری بڑھنے کا خطرہ 80 فیصد کم، روزانہ ایک گولی سے علاج کی نئی راہ کھل گئی
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے خون کے کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے جے پرکا (Jaypirca) نامی دوا کی منظوری دے دی ہے۔ یہ دوا دائمی لیمفوسائٹک لیوکیمیا (CLL) یا چھوٹے لیمفوسائٹک لیمفوما (SLL) کے ایسے مریضوں کے لیے منظور کی گئی ہے جن کا پہلے علاج نہیں ہوا اور جن میں 17p deletion موجود نہیں۔
اس منظوری کو خون کے کینسر کے علاج میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ جے پرکا منہ کے ذریعے روزانہ لی جانے والی دوا ہے اور بعض مریضوں کے لیے روایتی کیموتھراپی پر مبنی علاج کا متبادل بن سکتی ہے۔
ایف ڈی اے کی منظوری کی بنیاد BRUIN CLL-313 نامی عالمی کلینیکل ٹرائل کے نتائج بنے، جس میں 282 مریض شامل تھے۔ ایک گروپ کو جے پرکا دی گئی جبکہ دوسرے گروپ کا علاج بینڈامسٹین اور رٹوکسیماب کے امتزاج سے کیا گیا۔
تقریباً 28 ماہ کے فالو اپ کے بعد جے پرکا لینے والے مریضوں میں بیماری کے بڑھنے یا موت کا خطرہ کیموتھراپی والے گروپ کے مقابلے میں 80 فیصد کم پایا گیا۔ جے پرکا لینے والے گروپ میں بیماری کے بڑھنے تک اوسط مدت ابھی تک طے نہیں ہو سکی، کیونکہ فالو اپ کے دوران بڑی تعداد میں مریض بیماری کے بڑھنے سے محفوظ رہے۔ اس کے مقابلے میں کیموتھراپی والے گروپ میں یہ مدت تقریباً 33 ماہ رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق علاج شروع ہونے کے 24 ماہ بعد جے پرکا لینے والے تقریباً 93 فیصد مریض بیماری کے بڑھنے سے محفوظ تھے، جبکہ کیموتھراپی گروپ میں یہ شرح تقریباً 71 فیصد رہی۔
جے پرکا ایک نان کوویلنٹ بی ٹی کے انہیبیٹر ہے جو بی ٹی کے پروٹین کے ذریعے کینسر کے خلیوں کی افزائش اور بقا کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ دوا کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اسے گولی کی صورت میں گھر پر لیا جا سکتا ہے، جس سے بعض مریضوں کو اسپتال میں بار بار کیموتھراپی کے سیشنز سے بچنے کا موقع مل سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق جے پرکا کو مکمل طور پر ’’کیموتھراپی کا خاتمہ‘‘ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ دوا کے استعمال کے دوران انفیکشن، خون بہنے اور دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی سمیت ممکنہ مضر اثرات کی نگرانی ضروری ہے، جبکہ ہر مریض کے لیے علاج کا انتخاب اس کی بیماری اور طبی حالت کے مطابق کیا جاتا ہے۔
ایف ڈی اے کی یہ منظوری CLL اور SLL کے مریضوں کے لیے علاج کے مزید آپشنز فراہم کرتی ہے اور خون کے کینسر کے علاج میں ایسی ادویات کی جانب بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتی ہے جنہیں کیموتھراپی کے مقابلے میں نسبتاً آسانی سے گھر پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔



