سعودی عرب میں لیپ 2026 کے دوران چینی روبوٹس کی دھوم

ریاض (شِنہوا) سیدھے مکے، ہُکس اور گھوم کر مارے جانے والے ککس، باکسنگ دستانے اور حفاظتی ہیلمٹ پہنے دو انسان نما روبوٹس رنگ کے وسط میں مقابلے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کے گرد سمارٹ فونز کی ایک دیوار کھڑی ہے جو ہر مکے اور ہر جھانسے کو ریکارڈ کر رہی ہے، جبکہ ہجوم ایسے شور مچا رہا ہے اور داد دے رہا ہے جیسے کسی بڑے باکسنگ مقابلے کو دیکھ رہا ہو۔
یہ سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی لیپ ٹیک کانفرنس ہے، جہاں چینی کمپنی یونی ٹری روبوٹکس کے بوتھ پر روبوٹس کے مقابلے کے لئے بنایا گیا رنگ اس تقریب کی غیر متوقع توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
سعودی نوجوان علی الشاعر نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’میں یہاں سے گزر رہا تھا لیکن ان روبوٹس نے فوراً میری توجہ حاصل کر لی۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ روبوٹکس اس حد تک ترقی کر چکی ہے۔ ان کی حرکات بہت ہموار، ردعمل تیز اور وہ مختلف النوع حرکات انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
سعودی وزارت مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر اداروں کے زیر اہتمام سالانہ عالمی ٹیکنالوجی اجتماع لیپ اس سال ’’نئی دنیاؤں کی جانب‘‘ کے موضوع کے تحت 31 اگست سے 3 ستمبر تک جاری رہا۔ مختلف چینی روبوٹس نے یہاں صرف اپنی نمائش کی وجہ سے نہیں بلکہ مستقبل کی عملی تصویر پیش کرنے کے باعث بھی لوگوں کی خاص توجہ حاصل کی۔
ایجی بوٹ کے بوتھ پر ’’زین‘‘ سے لیس ایک بڑا چار ٹانگوں والا روبوٹ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اور کئی افراد اس پر سوار ہونے کے لئے قطار میں کھڑے ہوگئے۔
عملے کے مطابق ایجی کواڈ ڈی ون میکس پرو محض تفریحی پارک کی سواری نہیں بلکہ بھاری وزن اٹھانے اور ہر طرح کے دشوار گزار علاقوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے صنعتی معائنے اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لئے تیار کیا گیا ہے۔
عملے کے ایک رکن نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ سیاح ذاتی طور پر روبوٹ کی وزن اٹھانے اور نقل و حرکت کی صلاحیتوں کا تجربہ کریں۔‘‘
روسی شہری یولیا بیکولوا روبوٹ سے اترتے ہوئے حیرت سے آنکھیں پھیلائے ہوئے تھیں۔
بیکولوا نے کہا کہ ’’یہ مستقبل ہے۔ یہ واقعی ناقابل یقین ہے۔ بچپن میں جن چیزوں کے بارے میں کتابوں میں پڑھا تھھا، وہ اب حقیقت بن چکی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ چین روبوٹکس کے میدان میں سب سے آگے ہے۔
بیکولوا نے کہا کہ ’’چین واقعی دنیا کو تبدیل کر رہا ہے۔ ماضی میں بڑے پیمانے پر پیداوار کے ذریعے اس نے دنیا بھر میں روزمرہ زندگی کو زیادہ سہل بنایا۔ اب چین ایسی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات تیار کر رہا ہے جن سے دنیا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔‘‘
آنر کے بوتھ پر روبوٹ فون کی پہلی بار بیرون ملک نمائش کی گئی۔ اسے اگست میں دنیا کے پہلے بڑے پیمانے پر تیار کئے جانے والے روبوٹ فون کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، جس کے ڈیزائن میں مکمل طور پر موٹر سے چلنے والا تین محوروں والا مکینیکل گمبل نصب ہے۔
سیاحوں کی بڑی تعداد اس فون کو خود آزمانے کے لئے قطار میں کھڑی رہی۔
اردن سے تعلق رکھنے والے سیاح امر الجمال نے فون استعمال کرنے کے بعد کہا کہ ’’کچھ ایسے کام جن کے لئے پہلے پیشہ ورانہ فلم بندی کے آلات درکار ہوتے تھے، اب فون پر دستیاب ہیں۔ اس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ہم چین سے آنے والے بہت سے انتہائی جدید حل دیکھ رہے ہیں۔‘‘
آنر سعودی عرب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لیاؤ گانگ نے اس ڈیوائس کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’لیپ کے ذریعے ہم چین کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کو مزید اجاگر کرنا اور مستقبل میں سعودی صارفین کے لئے مزید بہتر چینی مصنوعات لانا چاہتے ہیں۔‘‘
لیاؤ نے کہا کہ اے آئی اور روبوٹکس سعودی وژن 2030 کے اہم حصے ہیں اور سعودی عرب کی روبوٹکس صنعت اور مارکیٹ میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے یہاں آنر روبوٹکس کے مزید دو ماڈلز بھی پیش کئے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ جلد سعودی مارکیٹ میں داخل ہوں گے۔‘‘
ایجی بوٹ کے مشرق وسطیٰ اور ایشیا بحرالکاہل خطے کے صدر ڈینگ فینگ نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے مشرق وسطیٰ میں ایک ٹیم قائم کی ہے اور مقامی شراکت داری کے لئے فعال طور پر کوششیں کر رہی ہے۔
ڈینگ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ روبوٹکس اور اے آئی کے لئے دنیا کی سب سے زیادہ امید افزا منڈیوں میں سے ایک ہے۔ چینی کمپنیاں اور مشرق وسطیٰ کے شراکت دار ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مجسم ذہانت پر مبنی روبوٹکس کی صنعت کو مشترکہ طور پر آگے بڑھا سکتے ہیں۔
سعودی عرب میں چینی سفیر چھانگ ہوا نے متعدد چینی بوتھس کا دورہ کرنے کے بعد شِنہوا کو بتایا کہ اس سال کی لیپ کانفرنس میں زیادہ تعداد میں چینی روبوٹکس کمپنیاں نئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات سعودی عرب لا رہی ہیں، جہاں انہیں مقامی شراکت داروں اور عوام کی جانب سے گرمجوشی اور بھرپور دلچسپی حاصل ہوئی ہے۔
چھانگ نے کہا کہ ’’چین نے ہمیشہ کھلے پن کے جذبے کے تحت سائنسی اور تکنیکی تعاون کیا ہے۔ بہت سی چینی کمپنیاں پہلے ہی اپنے سعودی شراکت داروں کے ساتھ روبوٹس کے استعمال کے حوالے سے بات چیت کر رہی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ بات چیت جلد نتیجہ خیز ثابت ہوگی اور ہمیں یقین ہے کہ مستقبل میں مزید کمپنیاں اس تعاون میں شامل ہوں گی۔‘‘
رنگ کے اندر روبوٹس چینی ناموں کے ساتھ مسلسل مکے برسا رہے ہیں، لیکن جدت کی ایک عالمگیر زبان بول رہے ہیں اور ہجوم کو ایسے مستقبل کی واضح جھلک دکھا رہے ہیں جہاں روبوٹس محض تصور نہیں بلکہ حقیقت کا حصہ بن رہے ہیں۔



  تازہ ترین   
سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کریں گے: خواجہ آصف
سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ، یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: عطاء تارڑ
بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے حکومت نے مزید قرض لینے کا منصوبہ بنا لیا
عراق سے امریکی افواج کا انخلا مکمل، کل ’یوم خودمختاری‘ منانے کا اعلان
امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں
پاکستان کا ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت
سکیورٹی فورسز کی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کامیاب کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک
ایران کی صورتحال انتہائی خراب، نہیں معلوم ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں: صدر ٹرمپ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر