تحریر: سعدیہ نارو
کےٹو ٹریک پر ہمارے قافلے میں چند ایسی نایاب ہستیاں بھی شامل تھیں جنہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ “نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے۔”
یہ لوگ قدرت کی ایسی خاص تخلیق تھے جو جگہ، موسم اور حالات کی ہر قید سے آزاد دکھائی دیتے۔ ٹریکنگ کے دوران مختصر وقفے میں چاہے بالتورو گلیشئیر کے نوکیلے پتھر ہوں یا برف سے ڈھکی گونڈوگور لا کی ڈھلوانیں، یہ جہاں ذرا دیر کو بیٹھتے وہیں خوابِ خرگوش کے مزے لینے لگتے۔ انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا جیسے نیند ان کی رفیقِ سفر ہے جو ہر دشوار راستے پر خاموشی سے ان کا ساتھ نبھاتی چلی آ رہی ہے۔
ایک میں ہوں کہ جیسے ہی اپنے گھر کی چار دیواری اور مانوس ماحول سے باہر قدم رکھتی ہوں، نیند مجھ سے ناراض ہو جاتی ہے۔ قراقرم کے سنگلاخ راستوں پر روزانہ میلوں پیدل چلنے کے بعد جب جسم آرام کا تقاضا کرتا تو رات کو میرے لیے ایک نئے امتحان کا آغاز ہو جاتا۔ خیمے میں کروٹیں بدلتے، معمولی سی آہٹ پر چونک کر جاگتے اور بار بار فون کی اسکرین پر وقت دیکھتے ہوئے رات کٹتی۔ یوں لگتا جیسے نیند اور میرے درمیان کوئی خاموش جنگ جاری ہو۔
پھر جب صبح کے پانچ بجتے اور دور پہاڑوں کے عقب سے روشنی کی پہلی لکیر نمودار ہوتی تو میں سکون کا سانس لیتی کہ شکر ہے ایک اور رات گزر گئی۔ یوں کےٹو ٹریک کے وہ دو ہفتے نیند کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے اور اپنے بے فکر اور خوش نصیب ساتھیوں پر رشک کرتے ہوئے بیت گئے۔



