اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری فرحت اللہ بابر نے جمعہ کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے صحافی مدثر نارو کے غائب کئے جانے کے تین سال مکمل ہونے پر مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی ادیب اور ترقی پسند آواز مدثر نارو کو غائب ہوئے تین سال ہوگئے ہیں لیکن ریاست کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ کچھ ماہ قبل مدثر نارو کی فنکار زوجہ صدف چغتائی بھی اپنے شوہر کے گم ہونے پر پریشانی کے عالم میں وفات پا گئی ہیں اور ان کا تین سال کا بیٹا حالات کے رحم و کرم پر ہے۔ مدثر نارو کا غائب کیا جانا ریاست اداروں کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہونا چاہیے تھا لیکن قانون نافذ کرنے والوں نے مدثر نارو کو تلاش کرنے سے انکار کر دیا اور ان کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی۔ اس کیس کی سماعت دو سال سے زبردستی غائب ہو جانے والے افراد کے لئے قائم کئے گئے کمیشن میں ہو رہی ہے لیکن اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال پر ریاست کو فوری طور پر توجہ دینی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اس کے سنگین مضمرات ہو سکتے ہیں اور فیٹف کی طرح یہ معاملہ بھی گلے کی ہڈی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ اس بارے نہ تو پارلیمنٹ، نہ ہی عدلیہ اور نہ ہی حکومت کچھ کر سکتی ہے۔ اب تک کسی بھی ایک مجرم کو نہیں پکڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے چیئرمین نے سینیٹ کی انسانی حقوق کے سامنے اگست 2018ءمیں اس بات پر اعتراف کیا تھا کہ 153سکیورٹی اراکین لوگوں کو غائب کرنے میں ملوث ہیں۔ فرحت اللہ بابر نے مطالبہ کیا کہ ان 153لوگوں کے نام عوام کے سامنے لائے جائیں اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
پیپلزپارٹی رہنما نے صحافی مدثر نارو کی بازیابی کا مطالبہ کر دیا



