ٹورانٹو ۔ اتوار 6 جون کی شام کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے شہر لندن میں ایک 20 سالہ ڈرائیور کی ٹکر سے سائیڈ واک پر پیدل چلنے والے، پاکستان نژاد کینیڈینز، ایک ہی فیملی کے چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں ، جبکہ اسی فیملی کا ایک ٹین ایجر زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل ہے ۔
لندن پولیس چیف سٹیو ولیمز کے بقول نوجوان ڈرائیور نے جان بوجھ کر اپنی گاڑی سے ان فیملی ممبرز کو ہٹ کیا اورحادثے کا شکار ہونے والے افراد کو ٹارگٹ کیا گیا تھا ۔ پولیس چیف کے مطابق “ ہمیں معلوم ہے کہ یہ واقعہ کمیونٹی، خصوصا مسلمانوں میں خوف اور سراسیمگی پیدا کرے گا مگر ہم نفرت پر مبنی ہر اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور اس مشکل گھڑی میں مسلم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔
ڈیٹیکٹیو سپرنٹنڈنٹ پال ویٹ کے مطابق اتوار کی شام 8 بجکر 40 منٹ کے قریب ایمرجنسی کریو کو ہائیڈ پارک اور ساؤتھ کیرج روڈز کے انٹرسیکشن پر کال کیا گیا تھا جہاں ایک بلیک پک اپ ٹرک میں سوار شخص سائیڈ واک پر پیدل چلنے والے ایک ہی فیملی کے پانچ افراد کو اپنی گاڑی سے ٹکر مار کر ہائیڈ پارک پر جنوب کی جانب تیز رفتاری سے ڈرائیو کرتے ہوئے فرار ہو گیا تھا ، تاہم پولیس نے اسے جائے واردات سے 6 کلومیٹر دور 5 منٹ بعد ہی گرفتار کر لیا تھا ۔ گرفتاری کے وقت ملزم نے باڈی آرمر کی طرح ویسٹ بھی پہنی ہوئی تھی ۔
پال ویٹ نے مزید کہا کہ یہ واضح دکھائی دے رہا تھا کہ اس نفرت انگیز عمل کو منصوبہ بندی سے انجام دیا گیا تھا ، تاہم مشکوک فرد اور حادثے کا شکار ہونے والے فیملی ممبرز میں ابھی کوئی تعلق سامنے نہیں آیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق گاڑی کی ٹکر سے ایک 74 سالہ خاتون تو موقع پر ہی دم توڑ گئی تھی جبکہ 46 سالہ مرد، 44 سالہ خاتون اور 15 سالہ ایک ٹین ایج لڑکی بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں چل بسے ہیں ۔فیملی میں واحد بچ جانے والا ایک 9 سالہ لڑکا بھی شدید زخمی ہوا ہے مگر اس کے زخم جان لیوا نہیں ہیں ۔ ملزم پر فرسٹ ڈگری مرڈر کے چار چارجز اور ایک اٹیمپٹڈ مرڈر کا چارج لگایا گیا ہے ۔ سوموار کو آڈیو لنک کے ذریعہ اسے لندن کی ایک کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور کسٹڈی ریمانڈ کے بعد جمعرات 10جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔
لندن اونٹاریو کی مسلم کمیونٹی میں ایک معروف شخصیت ، لائر نواز طاہر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک واقعہ سے مسلم کمیونٹی کے تمام افراد سخت تکلیف میں ہیں کہ کیسے خوشگوار موسم میں سیر کے لئے نکلے اس فیملی کے افراد ایک شخص کی نفرت کا نشانہ بنے ہیں ۔ان معصوم افراد کو صرف اس لئے نشانہ بنایا گیا کہ وہ مسلمان تھے مگر ہم اس نفرت ، اسلاموفوبیا کے خلاف پورے یقین سے کھڑے ہیں اور نفرت کا جواب محبت سے دیں گے ۔ہمارا عقیدہ ہمیں اس مشکل گھڑی میں ہمت دے گا اور پورا یقین ہے کہ کینیڈین نظام سے انصاف ملے گا ۔
لندن کے میئر ایڈ ہولڈر نے بھی کہا ہے کہ ایک شخص کی نفرت شہر لندن یا کینیڈین معاشرہ کی عکاس نہیں ہے ، ہم سب اس کی مذمت کرتے ہیں ، مرحومین کو انصاف ملے گا اور الفاظ سے زیادہ ہم اپنے عمل اور اچھے سلوک سے اس کا جواب دیں گے ۔



