اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے نیٹ میٹرنگ کو گراس میٹرنگ میں تبدیل کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے،موجودہ صورتحال میں سولر سسٹم پر لگائی گئی قیمت کی ریکوری بہت کم مدت میں ہورہی ہے،5 کلو واٹ سولرسسٹم کی قیمت ہمارے اندازے کے مطابق پچھلے 2 سال کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھاآئی ایم ایف نے ہم سے ایساکوئی مطالبہ نہیں کیا ہے۔ کچھ تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کرنا چاہ رہے ہیں جس سے قیمتوں میں کمی ہوگی۔ عوام سے درخواست کرتاہوںکہ وہ کم بجلی استعمال کرنے والے پنکھوں میں سرمایہ کاری کریں تاکہ بجلی کی بچت کی جا سکے۔ ٹرانسمیشن سسٹم کی کمزوری کی وجہ سے بجلی کے فی یونٹ ریٹ میں 2 سے 3 روپے زیادہ ہوجاتے ہیں جب کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں چوری اور مافیاز چل رہے ہیں جس کی وجہ سے بھی 5 روپے تک کا فرق ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ وفاقی حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ ختم کرکے گراس میٹرنگ شروع کرنےکا منصوبہ بنایا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے گراس میٹرنگ کی پالیسی پر کام جاری ہے۔ گراس میٹرنگ میں یونٹ کے بدلے یونٹ کا فارمولا ختم کرنے کی تجویز زیر غور بتائی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ گراس میٹرنگ میں نیشنل گرڈ کو دی جانے والی بجلی کی قیمت تقریباً نصف ہوسکتی ہے،گراس میٹرنگ میں صارفین سے بجلی سی پی پی اے کے ریٹ پر خریدنے کی تجویزبھی زیر غور ہے۔
بجلی تقسیم کار کمپنیاں گراس میٹرنگ پالیسی کے تحت صارفین کو بجلی حکومتی ریٹ پر بیچیں گی۔ گراس میٹرنگ پالیسی پر آئی ایم ایف سے بھی بات چیت ہوئی ہے، گراس میٹرنگ پالیسی حتمی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ اور مشترکہ مفادات کونسل کو پیش کی جاسکتی ہے۔



