اسلام آ باد (نیشنل ٹائمز) پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے)نے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں انتظامیہ کی ملی بھگت سے سمگل شدہ ایرانی تیل کی فروخت تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے جس پر احتجاج کرنے والے ڈیلرزکے خلاف انتقامی کاروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ گرفتاریوں کی صورت میںملک بھر میں ہڑتال کر کے سارے نظام کو مفلوج کر دینگے۔ پی پی ڈی اے کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر حسن شاہ نے پٹرولیم ڈیلرز کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں پی پی ڈی اے کے ضلعی صدور ہڑتال کے لئے ہماری کال کے منتظر ہیں۔انھوں نے کہا کہ پشاور ڈویژن میںرات بارہ بجے سے ہڑتال شروع کر دی گئی ہے جبکہ انتظامیہ ڈبہ سٹیشنز کو بند کرنے کے بجائے پٹرولیم ڈیلزر کو چھاپوں گرفتاریوں اور جرمانوں سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی بھرپور مزمت کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ پی پی ڈی اے پشاور ڈویژن کے ممبران اور رہنمائوں بشمول نجیب اللہ خان اور گل نواز آفریدی کو گرفتار کیا گیا تو ملک بھر میں فوری طور پرہڑتال شروع کر دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے اور معاملات کو درست کرے ورنہ یہ ملک بھر میں پٹرول پمپ بند کر دئیے جائیں گے جس سے سارا ملکی نظام مفلوج ہو جائے گا۔ حسن شاہ نے کہا کہ ایک بہت بڑا مافیا غیر معیاری ایرانی تیل سمگل کروا رہا ہے جسے ملک بھر میں سرعام بیچا جا رہا ہے جس میں پشاور سب سے آگے ہے۔ملک بھر میں چھوٹی دکانوں اور تھڑوں پر یہ غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ ایندھن سرعام پیچا جا رہا ہے جس کی وجہ سے آتشزدگی کے واقعات عام ہو گئے ہیں جس میں قیمتی جانیں اور مال ضائع ہو رہے ہیں۔اس موقع پر خواجہ عاطف احمد ، ہمایوں خان، ندیم عزیز جان اور نعمان بٹ نے کہا کہ یہ ڈبہ سٹیشن ضلعی انتظامیہ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ملی بھگت کے بغیر نہیں چل سکتے۔سرکاری افسران اور اہلکار ذاتی مفادات کے لئے ملکی مستقبل اور عوام کی جانوں سے کھیل رہے ہیں اور انھیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ سمگل شدہ تیل سے جہاں حکومت کو محاصل کی مد میں اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے وہیں ملکی ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کا کاروبار بھی تباہ ہو رہا ہے۔ سمگلنگ کی وجہ سے اس شعبہ میں نئی سرمایہ کاری کا امکان ختم ہو گیا ہے۔ اب اس سلسلے کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔
خیبر پختونخواہ میں سمگل شدہ ایرانی تیل کی فروخت تشویشناک حد تک بڑھ گئی



