اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)آزادکشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر چارروزسے جاری احتجاج رنگ لے آیا ۔ آزاد کشمیر حکومت نے بجلی اور آٹے کے نئے نرخوں کے اطلاق کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 100 یونٹ تک بجلی کی قیمت 3 روپے فی یونٹ مقرر کر دی گئی ہے۔ 100 سے 300 یونٹ تک 5 روپے، 300 سے زائد یونٹ 6 روپے فی یونٹ مقرر کیے گئے،نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمرشل بجلی کے 300 یونٹ تک نرخ 10 روپے فی یونٹ، 300 سے زائد یونٹ 15 روپے فی یونٹ مقرر کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ آٹے کی قیمت 2ہزار روپے فی من مقرر کی گئی ہے ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات تسلیم کر لئے گئے،آزادکشمیر میں امن و امان کی فضا قائم ہو جائے گی ۔ آزاد کشمیر کے معاملات حل کرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ، فوجی سربراہ نے ذاتی دلچسپی لی۔اسلام آباد میںصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سسٹی روٹی، بجلی ایسا مطالبہ ہے جن سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے،میں عوام کے مطالبات پاکستان کی سینیٹ میں لے کر گیا تھا، گزشتہ 4 روز سے آزاد کشمیر میں احتجاج کا سلسلہ جاری تھا۔انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے کل آصف زرداری نے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی ممبران کو صدر ہائوس بلایا ان سے احوال لیا، میں مکمل اظہار یکجہتی پر صدر زرداری کا شکرگزار ہوں، انہوں نے کہا میں وفاقی حکومت سے بات کروں گا، ہم کشمیری عوام سے محبت کو کمزور نہیں پڑنے دیں گے، شہباز شریف نے رات کو مجھے فون کے کے مکمل اظہار یکجہتی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ چونکہ منتخب جمہوری حکوموت ہے وہ عوامی مینڈیٹ کو سمجھتی ہے، آج شہباز شریف نے ہنگامی اجلاس بلایا جس میں تمام اسٹیک پولڈرز نے شرکت کی، میں وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے جو تحفظات تھے وہ سنے اور کہا کہ پاکستان کا کشمیری عوام سے لازوال رشتہ اس کے لیے جو کچھ کرنا پڑے گا آج اور ابھی کروں اور اسی وقت نوٹیفکیشن جاری کروں گا، جو کام عرصہ دراز سے التوا کا شکار تھے وہ ہوگئے اور بجلی اور روٹی کے نوٹفیفکیشن جاری کردیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے 3100روپے فی من آٹے کا نرخ تھا،آٹے کا اب فی من نرخ 2000روپے مقرر کیا گیا ہے،آٹے کے نرخ میں فی من 1100روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ بجلی کے ایک سے 100یونٹ تک کے نرخ 3روپے یو نٹ ہوں گے،100سے 300یونٹ تک بجلی کے نرخ 6روپے فی یونٹ ہوں گے،سبسڈی سے23ارب کا بوجھ پڑے گا جسے پاکستان نے قبول کرلیا،ان کا کہناتھا کہ معاملات کے حل کیلئے اسٹیبلشمنٹ، فوج کے سربراہ نے ذاتی دلچسپی لی۔چودھری انوارالحق نے کہاکہ آج کا نوٹیفکیشن فوری نافذ کردیا گیا ہے، یہ مستقل ارینجمنٹ ہے،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماوں کو نوٹیفکیشن کا بتا دیا گیا ہے۔چوہدری انوار الحق نے بتایا کہ ہم نے عوام کے احتجاج کوقوت کے طور پر استعمال کیا، حکومت کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے، اس معاملے کو احتیاط سے دیکھا گیا ہے، ان معاملات کو حل کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ اور فوج کے سربراہ نے ذاتی دلچسپی لی اور تمام اسٹیک ہولڈرز نے اتفاق کیا کہ جس حد تک ممکن ہے اپنے اخراجات میں کمی لائیں گے لیکن کشمیریوں کے مطالبات دور کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پور ے سال کے وزیر اعظم کے اور وزرا کے اخراجات منظر عام پر لائیں گے، میں جب بھی لوگوں کے سامنے آیا کہ اعلانات سیاسی قیادت کے منہ سے نہیں جچتے کیونکہ سیاستدانوں پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھ رہا ہے لیکن میں نے اہنے مراعات ختم کردی ہیں، حکومت پاکستان نے ایک جائز مطالبہ منظور کیا ہے، اس کا اجر انہیں ضرور ملے گا۔وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ خبر بکتی ہے لیکن سچ نہیں بکتا، میں کمزدور آدمی ہوں اپنی مزدوری کرتا ہوں، جو آئینی عہدے پر فائز ہے وہ آئین کے حساب سے بات کرتے ہیں، میں کوئی ایسا جملہ نہیں کہہ سکتا جو پاکستان اور کشمیر کا تعلق ختم کردے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں 3 لاکھ ٹن کوٹہ مل رہا ہے آٹے کا، یہاں گندم مافیا اتنا طاقتور تھا کہ سب باہر ایکسپورٹ ہوجاتا تھا لیکن ہم نے اس پر کام کیا۔چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ یہ جو آج حکومت نے جن املاک کی منظوری دی ہے تو میں چیلنج کرتا ہوں مودی کو کہ وہ اس ریٹ پر بجلی بیچ کر دکھا دے، یہ رشتہ ہے نظریہ پاکستان کا۔ چوہدری انوار الحق نے کہا کہ کشمیر مین اسٹیبلشمنٹ کا کرادر ہے، ایل او سی پر مسلح افواج کی شہادتیں رقم ہوتی چلی جارہی ہیں، وہاں کے امن و امان سے افواج پاکستان کا براہ راست تعلق ہے اور کشمیر پالیسی کے حوالے سے جتنے بیانیے سنے 5 اگست کے بعد سے اس کو دور ان مسلح افواج کے عزم نے دور کیا، ان کا کریڈٹ ہے اس میں تو وہ ان کو دینا چاہیے۔یاد رہے کہ آزادکشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر چار روز سے زبردست احتجاج،مظفر آباد لانگ مارچ اور شٹرڈائون و پہیہ جام ہڑتال جاری رہی ۔ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کے مطابق آل جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں اور مطالبات کی منظوری سے متعلق معاہدہ بھی طے پاچکا ہے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ آزاد جموں کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز بحال کردی گئی۔
آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج رنگ لے آیا، حکومت نے بجلی اور آٹے کے نئے نرخوں کے اطلاق کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا



