اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ شیر افضل مروت کا معاملہ اتنا سیریس نہیں، پارٹی کوئی بھی فیصلہ لے سکتی ہے اور اسے تبدیل بھی کر سکتی ہے ،پی ٹی آئی کے اندر فیصلوں کے لئے ایک نظام موجود ہے کچھ لوگ وقتی ناراض ہوتے ہیں ، دھاندلی غیر مرئی قوتیں نہیں کرتیں، ہمیں معلوم ہے کن طاقتوں نے کردار ادا کیا اور آر اوز کو باہر نکالا، الیکشن کمیشن خواہ کچھ بھی کہے لیکن یہ تمام چیزیں سب کے سامنے ہیں ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی، اس غلطی کا ازالہ یہ ہے کہ تمام جماعتیں، فریقین اور مقتدرہ بیٹھیں اور کہیں کہ غلطی ہوگئی، ہم نے پاکستان کے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے، ان کی رائے کو دھتکارا ہے اور پھر یہ مان کر ایک نے الیکشن کی جانب جایا جائے۔ دھاندلی غیر مرئی قوتیں نہیں کرتیں، ہمیں معلوم ہے کن طاقتوں نے کردار ادا کیا اور آر اوز کا باہر نکالا، الیکشن کمیشن خواہ کچھ بھی کہے لیکن یہ تمام چیزیں سب کے سامنے ہیں۔اگر مخصوص نشستوں پر فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں آیا تو کیا سینیٹ انتخابات کا سارا معاملہ دوبارہ سے ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ آئین کی تشریح کا معاملہ ہے، اگر آئین کے مطابق سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جاتی ہیں تو قومی اسمبلی میں صورتحال بدل جائے گی، سینیٹ کا الیکشن بھی متاثر ہوگا۔ا نہوںنے کہا کہ یہ کلیدی نوعیت کا معاملہ ہے جس سے ہمارے پوری پارلیمانی نظام کی تشکیل نو ہوگی۔انہوںنے کہا کہ شیر افضل مروت کا معاملہ اتنا سیریس نہیں، پارٹی کوئی بھی فیصلہ لے سکتی ہے اور اسے تبدیل بھی کر سکتی ہے ،پی ٹی آئی کے اندر فیصلوں کے لئے ایک نظام موجود ہے کچھ لوگ وقتی ناراض ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا ہو گی تو وہ بھی کریں گے ۔انہوںنے کہا کہ ہم ہر سفیر سے ملیں گے ،ان سے تعلق رکھیں گے ،وہ پارٹی جوسمجھتی ہو کہ آئندہ اس اس کی حکومت آسکتی ہے وہ کیو ں امریکی سفیر سے نہیں مل سکتے ۔
شیر افضل مروت کا معاملہ اتنا سیریس نہیں، پارٹی کوئی بھی فیصلہ لے سکتی ہے، سلمان اکرم راجہ



