لاہور(نیشنل ٹائمز)اسلام آباد ہائی کورٹ کے 8 ججوں کو پاؤڈر بھرے مشکوک دھمکی آمیز خطوط موصول ہونے کے بعد آج لاہور ہائی کورٹ کے 3 ججز کو بھی دھمکی آمیز خطوط موصول ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے. نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز خطوط جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس عالیہ نیلم کے نام بھجوائے گئے ذرائع کے مطابق دھمکی آمیز خطوط نجی کوریئر کمپنی کے ملازم نے موصول کروائے جسے حراست میں لے لیا گیا ہے مشکوک خطوط موصول ہونے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے، پولیس فورس احاطہ عدالت میں موجود ہے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) حکام لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں.
دریں اثنا ڈی آئی جی آپریشن علی ناصر رضوی نے لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججز کو موصول ہونے والے خطوط کی تعداد 4 ہے انہوں نے کہا کہ ابھی تحقیقات چل رہی ہیں، دیگر کورٹس سے بھی چیک کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ آپ کو درست حقائق بتائے جائیں گے، کچھ وقت دیا جائے تاکہ چینلز پر چلنے والی خبر عوام تک درست جائے.
واضح رہے کہ گزشتہ روز 3 اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 8 ججوں کو پاؤڈر بھرے مشکوک خطوط موصول ہوئے تھے جس میں ڈرانے دھمکانے والا نشان موجود تھے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے گزشتہ روز سائفر کیس کی سماعت کے دوران تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں خط موصول ہوئے ہیں، سائفر کیس کی سماعت میں تاخیر کی ایک وجہ یہی تھی، بنیادی طور پر ہائی کورٹ کو تھریٹ کیا گیا ہے.
عدالتی ذرائع نے بتایاتھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو مشکوک خطوط موصول ہوا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ انتظامیہ نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا ہے بتایا جاتا ہے کہ ایک جج کے سٹاف نے خط کو کھولا تو اس کے اندر پاؤڈر موجود تھا، اسلام آباد پولیس کی ایکسپرٹس کی ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئی ہے۔



