اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے، جن لوگوں نے حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا ہوا ہے اور تشدد کا راستہ اپنایا ہوا ہے اور معصوم شہریوں کے قتل و غارت کا راستہ چنا ہوا ہے وہ معافی کے قابل نہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ڈائیلاگ سے مسئلہ حل ہو لیکن اس سے نہیں ہوتا، ہمیں آئین نے یہ ذمہ داری دی ہے کہ ہم اپنے لوگوں کا تحفظ کریں، اپنے اثاثہ جات کا تحفظ کریں۔
تربت اور گوادر میں دہشتگردوں کا حملہ ہوا، دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے پرسکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ صوبے میں جہاں جہاں ہماری کامیابیوںکی کہانیاں ہیں ان کا بار بار ذکر کرنا چاہیے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں کوئی ایک انچ بھی ایسا نہیں جہاں ریاست کی رٹ نہیں، ہم بلوچستان میں انٹیلی جنس بیس آپریشن کریں گے، بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں، بلوچستان میں ایف سی ،پولیس و دیگر ادارے مقابلہ کریں گے۔
آج تک بلوچستان کو جو حقوق ملے وہ پارلیمنٹ نے دیئے ہیں۔صوبے میں بیڈ گورننس کو ختم کرکے گڈ گورننس لانا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے میں نے وفاق کی بلوچستان کیلئے سنجیدگی دیکھی ہے، ہم بلوچستان کے مسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بلوچستان کے عوام کے جان و مال کی حفاظت اور عزت کی حفاظت کرنا ہم پر آئینی طور پر ذمہ داری ہے ، بلوچستان میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی اتحادی ہیں، اپوزیشن کے بغیر ڈیموکریسی مکمل نہیں ، ہم اتحادی اکٹھے بیٹھیں گے اور مشاورت کے ساتھ فیصلے کریں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہم نے سمگلنگ کا خاتمہ کرنا ہے، بلوچستان میں روزگارکے مواقع بہت کم ہیں لیکن سمگلنگ کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہمیں اس وقت گورننس،کلائمیٹ چینج اوردہشتگردی جیسے چیلنجز درپیش ہیں، ہم سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن بددیانتی نہیں کریں گے۔



