اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قادیانیوں کے متعلق چھ فروری کے متنازع فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی کی پٹیشنز پر سماعت کرتے ہوئے تمام درخواست گزاروں کو تحریری دلائل دو ہفتوں کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت کسی کے دلائل نہیں سنے گی۔
تحریری دلائل کی روشنی میں عدالت کے کوئی سوالات ہوئے تو ان کے جوابات صرف سنے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق قادیانیوں کے متعلق سپریم کورٹ کے چھ فروری کے متنازع فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی پٹیشنز کی سماعت آج(جمعرات کو)ہوئی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکومت پنجاب،جمیعت علمائے اسلام،تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان،جماعت اسلامی اور دیگر کی جانب سے دائر نظر ثانی پٹیشنز کی سماعت کی۔حکومت پنجاب کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب،جمیعت علمائے اسلام اور تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سینیٹر کامران مرتضیٰ جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے جسٹس(ر)شوکت عزیز صدیقی عدالت عظمیٰ کے روبرو پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ”ہم وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ فوجداری مقدمات میں نظر ثانی کی پٹیشن صرف ریاست،مدعی مقدمہ اور ملزم کی جانب سے دائر کی جا سکتی ہے۔ان کے علاوہ کوئی اور فوجداری مقدمات میں فریق نہیں بن سکتا۔اس مرحلے پر ہم مذکورہ کیس میں کسی کے بھی فریق بننے کی درخواست منظور نہیں کررہے۔
ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل سمیت دس دینی اداروں سے اپنے چھ فروری کے فیصلے کے متعلق رائے طلب کی تھی۔ان تمام کی رائے آچکی ہے۔المورد نے کہا ہے کہ ہم۔ بطور ادارہ اس متعلق کوئی رائے نہیں دے سکتے۔جس بھی جماعت،تنظیم۔یا شخصیت نے مذکورہ کیس میں فریق بننے کی درخواست دی ہے،وہ تمام اپنے تحریری دلائل مقررہ مدت کے اندر جمع کرائیں۔
ہم زبانی دلائل نہیں سنیں گے۔تحریری دلائل کی روشنی میں ہمارے کوئی سوالات ہوئے تو آئندہ تاریخ سماعت پر صرف ان کے جوابات سنیں گے”۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ”ہم شائد علمائے کرام اور مذہبی شخصیات سے زیادہ آئین و قانون کو سمجھتے ہیں۔
لہٰذا ہمیں کوئی آئین و قانون نہ بتائے۔ہمیں قرآن و سنت اور شرعی احکام کے متعلق عبور حاصل نہیں ہے۔لہٰذا علمائے کرام اور مذہبی شخصیات اپنے دلائل کو صرف قرآن و سنت اور شرعی احکام تک محدود رکھتے ہوئے ہماری رہنمائی کریں”۔دوران سماعت ایک درخواست گزار کی جانب سے مداخلت کئے جانے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ”ہمیں ہر موقع پر اخلاقیات کا خیال رکھنا چاہئیے۔
سب سے بہتر اخلاق حضور ﷺ کے تھے۔ہم ان تک نہیں پہنچ سکتے۔ہم صرف ان کی نقل کر سکتے ہیں۔ہمیں چاہئیے کہ ہر موقع پر جس حدتک بھی ممکن ہو،ان کی نقل کریں”۔جماعت اسلامی کے وکیل جسٹس(ر)شوکت عزیز صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ”مذکورہ کیس میں فوجداری مقدمے کے متعلق جس حدتک تعلق ریاست،مدعی مقدمہ اور ملزم کا ہے،ہم اس میں مداخلت نہیں کریں گے۔ہمارا اعتراض چھ فروری کے فیصلے کے پیرا نمبر چھ سے دس تک ہے۔اسی حدتک میں دلائل دوں گا”۔
اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے جے یو آئی اور تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کے وکیل کامران مرتضیٰ کو روسٹرم پر طلب کرکے استفسار کیا کہ آئین پاکستان میں دوسری ترمیم کب ہوئی تھی اور کیا ہوئی تھی؟کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ آئین پاکستان میں دوسری ترمیم سات ستمبر سنہ 1974 کو ہوئی تھی۔اس ترمیم کے ذریعے آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 میں ترمیم کرتے ہوئے مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کو آئین پاکستان کا آرٹیکل 260 پڑھنے کی ہدایت کی۔کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے مذکورہ آرٹیکل پڑھا تو چیف جسٹس آف پاکستان نے ان سے مزید استفسار کیا کہ آئین پاکستان میں جو مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کی گئی ہے،وہ قرآن کریم کی کس آیت سے اخذ کی گئی؟اس پر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ اس متعلق علمائے کرام ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔
آئین پاکستان میں دوسری ترمیم کے حوالے مفتی محمود رحمہ اللّٰہ اور پروفیسر عبدالغفور رحمہ اللّٰہ کا اہم کردار تھا۔مسلم اور غیر مسلم کی جو تعریف آئین پاکستان نے کر دی ہے،وہ ہمارے لئے حتمی ہے۔اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی اعتراض ہے تو وہ ساتھ والی عمارت پارلیمنٹ میں جاکر آئین میں ترمیم کروا لے۔جب آئین پاکستان نے ایک معاملہ طے کر دیا ہے تو بات ختم۔لہٰذا اس متعلق بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے فاضل عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ عدالت علمائے کرام اور دینی اداروں سے رائے طلب کرے کہ کیا بلاسفیمی یا تحریف قرآن اعلانیہ کرنا اگر جرم ہے تو کیا چار دیواری کے اندر یا پرائیویٹلی بلاسفیمی یا تحریف قرآن کرنے کی اجازت ہے؟اس سوال کا اہم تعلق مذکورہ کیس سے ہے۔اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں دوسری طرف نہ لیکر جائیں۔
ہم نے دنیا کے سارے مسائل اس کیس میں نہیں حل کرنے۔نظر ثانی کی پٹیشنر میں ہم اپنے چھ فروری کے فیصلے میں اگر کوئی غلطی ہے تو صرف اسے ریویو کریں گے۔اس کے علاوہ کوئی دوسرا معاملہ جب عدالت کے سامنے آئے گا تو اس وقت ہی اسے دیکھا جائے گا۔دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت خان نے مفتی تقی عثمانی کو عدالتی معاون مقرر کرنے کی تجویذ دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر اس بینچ کے دیگر دو معزز ارکان اتفاق کریں تو میری تجویذ ہے کہ جسثس(ر)مفتی تقی عثمانی کو اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کیا جائے۔
اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہم مفتی تقی عثمانی سے اس کیس کے حوالے سے رائے حاصل کر چکے ہیں۔بعدازاں فاضل عدالت عظمٰی نے مذکورہ نظر ثانی پٹیشنز کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے تمام درخواست گزاروں کو اپنے تحریری دلائل دو ہفتوں کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ جتنا وقت ہم تحریری دلائل جمع کرانے کے لئے دے رہے ہیں،اتنا ہی وقت ہم اسے پڑھنے کے لئے بھی لیں گے۔
اس کے بعد مذکورہ نظر ثانی پٹیشنز کو سماعت کے لئے مقرر کیا جائے گا۔اس موقع پر تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری حافظ احتشام احمد،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری مولانا قاری عبدالوحید قاسمی،مبلغ مولانا طیب فاروقی،جماعت اسلامی کے جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ،فرید احمد پراچہ،تحریک لبیک پاکستان کے سرپرست اعلیٰ قاضی محمود اعوان،رضوان سیفی،انٹرنیشنل تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماء و رکن پنجاب اسمبلی مولانا الیاس چنیوٹی،سنی علماء کونسل اسلام آباد کے ترجمان مولانا یاسر قاسمی سمیت دیگر جماعتوں،تنظیموں کے نمائندے اور غیر ملکی مبصرین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔



