غزہ(نیشنل ٹائمز)ایک طرف عالمی برادری اسرائیلی حملوں سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو میں اس شرط کے ساتھ شرکت کی خواہش مند ہے کہ بین الاقوامی امدادی رقوم حماس تک نہ پہنچیں ، دوسری طرف غزہ کی پٹی پر کنٹرول رکھنے والی تنظیم اس موقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ مالی امداد اس کے ہاتھوں سے ہو کر گزرے۔گذشتہ روز امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن اپنے بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غزہ کے لیے امداد حماس تک نہ پہنچے۔انہوں نے مزید کہا کہ مالی رقوم فلسطینی اتھارٹی اور آزاد اداروں کے حوالے کی جائیں گی۔دوسری جانب اسرائیل میں کئی ذمے داران یہ باور کرا چکے ہیں کہ وہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے امدادی رقوم حماس کے ہاتھوں میں نہ جائیں ،، وہ اس رقم سے فائدہ اٹھا کر ایک بار پھر خود کو ہتھیاروں سے لیس کرے گی۔اسرائیلی وزیر خزانہ یسرائیل کاتس یہ کہہ چکے ہیں کہ “ہمیں امریکا اور دیگر اہم فریقوں کے ساتھ رابطہ کاری کی ضرورت ہے تا کہ یہ جان سکیں کہ حماس کو مالی امداد استعمال کرنے سے کس طرح روکا جا سکتا ہے”۔اسی طرح اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز بھی گذشتہ روز اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ تعمیر نو کے واسطے مختص مواد کو حماس تک پہنچنے سے روکنے کے راستے تلاش کیے جائیں۔
غزہ کی تعمیر نو، حماس کا مالی امداد وصول کرنے پر اصرار



