لاہور (نیشنل ٹائمز) نیب نے سابق مشیر برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر کو طلب کرلیا۔ میدیا رپورٹس کے مطابق نیب لاہور نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو طلب کیا ہے، نیب کی طرف سے شہزاد اکبر کو 21 اکتوبر کو نیب لاہور کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے، اور مختلف محکموں میں تعیناتی سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ نیب لاہور نے مرزا شہزاد اکبر کو 22 سوالات پر مشتمل سوال نامہ بھی جاری کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ شہزاد اکبر اپنے تفتیشی کے روبرو 21 اکتوبر کو صبح 11 بجے لاہور دفتر پیش ہوں۔ بتاتے چلیں کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں بنائے گئے اثاثہ ریکوری یونٹ کے خلاف تحقیقات شروع کی ہوئی ہیں، نیب نے سابقہ حکومت میں بیرسٹر شہزاد اکبر کی زیر قیادت قائم کردہ اثاثہ ریکوری یونٹ کے خلاف مالی فوائد کی خاطر اختیارات کے غلط استعمال اور برطانیہ سے موصول ہونے والی جرمانہ کی رقم کے معاملے میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور ریکارڈ کو غیر قانونی انداز سے سیل کرنے کے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور اس حوالے سے باضابطہ طور پر وزیراعظم آفس سے رجوع کرتے ہوئے شہزاد اکبر کے دفتر سے تمام متعلقہ ریکارڈ کی نقول فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
نیب ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم آفس کو بھیجے گئے خط میں جو تفصیلات مانگی گئی ہیں ان میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ساتھ کی گئی مکمل خط و کتابت اور رقم کی پاکستان منتقلی کی تفصیلات شامل ہیں ، نیب نے ناصرف اے آر یو کی جانب سے رازداری کا معاہدہ بھی مانگا ہے بلکہ برطانوی حکومت کی جانب سے فنڈز کی منتقلی کی بعد اے آر یو کی جانب سے جاری کی جانے والی کوئی بھی پریس ریلیز کے حوالے سے بھی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔



