اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور ماہر قانون حامد خان نے کہا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف میں تو کہیں نہیں لکھا کہ اس کے تحت کوئی شخص تاحیات نااہل ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شق میں صرف یہ لکھا ہے کہ کسی امیدوار میں جو خوبیاں ہونی چاہییں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ صادق اور امین ہو، لیکن یہ نہیں لکھا کہ اس میں یہ اہلیت نہ ہو تو وہ ساری عمر کے لیے نااہل ہوجائے گا۔صادق اور امین کا لفظ ہم گناہ گاروں کیلئے استعمال نہیں ہوسکتا، خواجہ آصفواضح رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری سمیت دیگر رہنما بھی 62 ون ایف کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈاکی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف کو ڈریکونین قانون قرار دیا ہے۔
آرٹیکل 62 ون ایف میں تو کہیں نہیں لکھا کہ اس کے تحت تاحیات نااہلی ہوسکتی ہے: حامد خان



