لوگوں میں ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھانے والے اہم عنصر کی شناخت

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)سماجی طور پر کٹ جانے والے اور تنہائی کے شکار افراد میں ہارٹ اٹیک اور فالج یا ان دونوں سے موت کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ سماجی میل جول نہ رکھنا اور تنہائی دونوں سے عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کو منفی اثرات کا سامنا ہوتا ہے۔اس تحقیق میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جو سماجی زندگی گزارنے کی بجائے ایک جگہ تک محدود ہوگئے تھے اور 47 فیصد تنہائی کا شکار تھے۔تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا کہ 18 سے 22 سال کی عمر کے نوجوان بھی سماجی طور پر الگ تھلگ زندگی گزارتے ہیں جس کی ممکنہ وجہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارنا اور بامقصد سرگرمیوں کے لیے کم وقت نکالنا ہوسکتی ہے۔محققین نے بتایا کہ اگرچہ سماجی طور پر الگ تھلگ ہونا اور تنہائی کے احساس کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جاتا ہے مگر یہ دونوں ایک نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن ہے کہ کچھ افراد لوگوں سے گھلنا ملنا پسند نہ کرتے ہوں مگر تنہائی محسوس نہ کرتے ہوں اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کسی فرد کے جاننے والے تو بہت زیادہ ہوں مگر وہ تنہائی محسوس کرتا ہو۔سماجی طور پر الگ تھلگ ہونے کی اصطلاح ایسے افراد کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو دوستوں، گھروالوں یا اپنی برادری کے افراد سے بہت کم رابطے میں رہتے ہوں۔تنہائی کی اصطلاح ایسے افراد کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اکیلے رہتے ہوں یا دوسروں سے رابطے بڑھانے میں ناکام رہتے ہوں۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایک مہینے میں 3 یا اس سے بھی کم بار دیگر افراد سے ملنا جلنا ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔تحقیق کے مطابق ویسے تو معمر افراد میں شریک حیات کے انتقال کے بعد سماجی میل جول کا امکان کم ہوجاتا ہے مگر نوجوان سوشل میڈیا کے باعث دیگر افراد سے رابطے میں نہیں رہ پاتے۔محققین نے کہا کہ سماجی میل جول نہ رکھنے سے کسی بھی وجہ سے جلد موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بالخصوص مردوں میں۔اسی طرح ان افراد میں دائمی تناؤ اور ڈپریشن کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور ڈپریشن ہی انہیں سماجی میل جول سے دور لے جانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔نوجوانوں میں سماجی میل جول نہ رکھنا موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور بلڈ گلوکوز میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔محققین نے کہا کہ فوری طور پر ایسے پروگرام اور حکمت عملیوں کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو سماجی طور پر الگ تھلگ ہونے اور تنہائی کے منفی اثرات کو کم کرسکیں، بالخصوص زیادہ خطرے سے دوچار افراد کے لیے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی میں شائع ہوئے۔



  تازہ ترین   
بھارت سے ساولکوٹ ڈیم پر تفصیلات طلب، پانی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: دفتر خارجہ
بانی پی ٹی آئی کی بینائی صرف 15 فیصد باقی ہے: بیرسٹر سلمان صفدر
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر