اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)جرنل سیل میٹابولزم میں شائع ہونے والی چینی محققین کی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جن افراد کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) بہت کم ہوتا ہے وہ کھانا کم کھاتے ہیں اور متحرک بھی کم ہوتے ہیں۔اس سے قبل باڈی ماس انڈیکس تیز میٹا بولزم سے منسلک کیا جاتا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جن افراد کا باڈی ماس انڈیکس کم ہوتا ہے وہ قدرتی طور پر زیادہ فعال ہوتے ہیں۔چین کی شینزین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی اور برطانوی یونیورسٹی آف ایبرڈین کے پروفیسر جون اسپیک مین کا کہنا ہے کہ ہمیں امید تھی کہ کم بی ایم آئی کے اہل افراد کا میٹابولیزم تیز ہوگا، وہ خوارک کی زیادہ مقدار لیتے ہوں اور زیادہ متحرک ہوں گے لیکن نتائج اس کے برعکس تھے۔ان کا کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کم بی ایم آئی والے افراد کی غذا کی مقدار کم ہوتی ہے اور ایسے افراد بہت کم متحرک ہوتے ہیں۔ نیز حیران کُن طور پر میٹابولیزم کے سست ہونے کے باعث ان میں تھائی رائیڈ سے منسلک ہارمونز کا لیول امید سے زیادہ ہوتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق محققین نے تحقیق کے لیے 173 ایسے رضاکاروں کی دو ہفتے تک جانچ کی جن کا بی ایم آئی نارمل 150 کی رینج میں ہو، جنہیں عام طور سے صحت مند سمجھا جاتا ہے۔جس سے یہ بات سامنے آئی کہ بی ایم آئی کی نارمل رینج کے حامل افراد کے مقابلے کم بی ایم آئی والے افراد 12 فیصد کم کھانا کھاتے ہیں اور ایسے افراد 23 فیصد تک کم متحرک ہوتے ہیں۔بیجنگ ٹیکنالوجی اینڈ بزنس یونیورسٹی سے وابستہ سومی ہو کا کہنا ہے کہ اگرچہ کم بی ایم آئی والے افراد کا میٹا بولیزم سست، یہ لوگ کم متحرک اور کم غذا کھاتے ہیں لیکن اس کے باجود ان کے دل، ان کی جسم میں کولیسٹرول اور بلڈپریشر کی بہت اچھی صورتحال سامنے آئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جسم کی کم چربی جسمانی سرگرمی کو روک سکتی ہے جسم میں چکنائی کی مقدار کا براہ راست تعلق جسمانی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔محققین اب BMI کی بنیاد پر کم اور نارمل وزن کے حامل صحت مند افراد کے مابین تعلق اور فرق کو جانچنے کے لیے کوشاں ہیں۔
کم BMI والے افراد حیران کُن طور پر کم متحرک ہوتے ہیں، تحقیق



