گاجر قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے جو انسانی جسم کے لئے مفید غذائی عناصر سے بھرپور ہے۔اگر اس کو جوس کی صورت میں روزانہ استعمال کیا جائے تو بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔گاجر کو غریبوں کا سیب کہا جاتا ہے کیونکہ غذائی اعتبار سے یہ مہنگے ترین پھلوں کے بھی ہم پلہ ہے اور آئے دن گاجر اور اس کے رس کے طبی فوائد سامنے آتے رہتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گاجر کا رس دیگر پھلوں کے رس کے ساتھ مل کر ان کا ذائقہ اور افادیت بڑھا دیتا ہے۔گاجر کا رس غذائیت سے بھرپور تو ہوتا ہے لیکن یہ کئی خوفناک امراض کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
معدے کا کینسر
گاجر اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جن کی سرطان روکنے کی صلاحیت سے سب واقف ہیں،ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ گاجر کا رس معدے کے کینسر کو دور رکھنے میں مددگار ہوتا ہے اگر مسلسل گاجریں کھائی جائیں تو معدے کے سرطان کے امکانات 26 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔
لیو کیمیا کا تدارک
ایک مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ گاجر کا رس لیو کیمیا کے خلیات (سیلز) کو ختم کرنے میں موٴثر کردار ادا کرتا ہے۔بسا اوقات گاجر کا رس لیو کیمیا کے خلیات کو ازخود تباہ کر دیتا ہے اور ان کے پھیلاؤ کو روکتا ہے البتہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
چھاتی کے سرطان سے بچائے
گاجروں میں کیروٹینوئیڈز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو چھاتی کے کینسر کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکتی ہے۔
اس کے علاوہ سائنسدان پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ خون میں کیروٹینوئیڈز کی مقدار جتنی زیادہ ہو گی،بریسٹ کینسر کے لوٹنے کا خطرہ اتنا ہی کم ہو جاتا ہے۔اس کیلئے ایک چھوٹا سا مطالعہ کیا گیا کہ خواتین کو تین ہفتوں تک روزانہ 8 اونس گاجر کا رس پلایا گیا۔اس کے بعد جب ان خواتین کے خون کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کے خون میں کیروٹینوئیڈز کی مقدار زیادہ تھی جب کہ آکسیڈیٹیو اسٹریس کی علامات کم تھیں جو کینسر کی وجہ بن سکتی ہیں۔



