اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)حکومت نے ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کیلئے معاشی ایمرجنسی کی بنیاد پر لگژری غیر ملکی اشیاء کی امپورٹ پر مکمل پابندی عائد کردی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے حکومتی فیصلوں پر بریفنگ دی۔جن اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔موبائل فونزہوم اپلائنسزفروٹس اور ڈرائی روٹس(ماسوائے افغانستان)کراکریپرائیوٹ اسلحہجوتےفانوس اور لائٹیں (ماسوائے انرجی سیورز)ہیڈ فونز اور لاؤڈ اسپیکرزساسز ، کیچپدروازے اور کھڑکیوں کے فریمزٹریولنگ بیگس اور سوٹ کیسزسینیٹری ویئرزفش اور فروزن فشکارپیٹس (ماسوائے افغانستان)محفوظ شدہ پھلٹشو پیپرفرنیچرشیمپوزگاڑیاںکنفیکشنری آئٹمزلگژری میٹرس اور سلیپنگ بیگسجیمز اور جیلیکان فلیکسباتھ روم ویئرہیٹرز / بلوؤرزسن گلاسزکچن ویئرایریٹڈ واٹر (ہوا آمیز پانی)فروزن میٹجوسزپاستا وغیرہآئس کریمسگریٹسشیونگ کا سامانلگژری لیدر آئٹمزموسیقی کے آلاتسیلون آئٹمز بشمول ہیئر ڈرائیرز وغیرہچاکلیٹسپاکستان آئی ایم ایف کے زیادہ تر مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہانہوں نے کہا کہ معاشی ایمرجنسی کی بنیاد پر لگژری آئٹمز کی درآمد پرپابندی لگائی گئی ہے، امپورٹڈ گاڑیوں کی درآمد پر مکمل پابندی لگادی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جیم اور جیولری، چمڑا، چاکلیٹ اور جوسز، سگریٹ کی درآمد پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ بڑی گاڑیوں اور موبائل فونز کی درآمد پر بھی مکمل پابندی لگادی گئی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ امپورٹڈ کنفیکشنری، کراکری، فرنیچر، فش اور فروزن فوڈ، فروٹ اور ڈرائی فروٹ کی امپورٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی ڈبل سنچریانہوں نے بتایا کہ میک اپ اور ٹشو پیپرز کی امپورٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔اس کے علاوہ امپورٹڈ امپورٹڈ ہوم اپلائنسز ، امپورٹڈ نجی اسلحہ، جوتوں کی امپورٹ، ساسز، فروزن میٹ، فرنیچر،شیمپو،میک اپ، لگژری میٹرس، سلیپنگ بیگ، جیم، جیلی، سن گلاسز ، میوزیکل آلات، سیلون آئٹمز اور شیونگ کے سامان کی امپورٹ پربھی مکمل پابندی لگادی گئی ہے۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اس پابندی کا دو مہینے میں اثر زرمبادلہ کے ذخائر پر آئے گا اور اس پابندی اور دیگر اقدامات سے سالانہ بنیادوں پر 6 ارب ڈالر کے مثبت اثرات معیشت پر ہوں گے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ن لیگ کے دور میں ملکی ترقی کی شرح 6 فیصد تھی، گزشتہ 4 سال میں ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کردیا گیا، ملک کے اندر ابھی ایمرجنسی صورتحال ہے، عوام کو موجودہ صورتحال میں قربانی دینا پڑےگی۔



