اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اراکین نے خود میڈیا پر آکر وضاحت کی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اور بغیر کسی لالچ کے یہاں آئے ہیں اور ہم وزیر اعظم کی پالیسیوں سے تنگ آکر ان کے خلاف ووٹ دینگے،اب پی ٹی آئی کے کیمپ میں موجوددیگر اراکین وزیر اعظم کے خلاف ووٹ ڈالنے کیلئے آئینگے، وفاقی وزرا دھمکیاں نہ دیںنیازی سلطنت کا خاتمہ ہونیوالا ہے،آپ سندھ ہاوس پر حملے کی دھمکیاں نہ دیں،اب تم سابق وزیر اعظم کہلانے والے ہواور پھر آپ کہیں گے کہ’مجھے کیوں نکالا‘؟، وزیر اعظم کیلئے یہ شرم کا مقام ہے کہ وہ اپنے اراکین کی جاسوسی کروا رہے ہیں، جو افسران حکومت کے غیر قانونی احکامات پر عمل کرینگے ان کے خلاف ایکشن لیا جائیگا۔میڈیاکوارڈیننٹر نذیر ڈھوکی اور کیپٹن واصف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزرا کی جانب سے جو تاثر دیا گیا کہ کچھ اراکین اسمبلی کو اغوا کرکے انہیں خفیہ طور پر سندھ ہاوس میں رکھا گیا ہے اور انہیں پیسے دیئے گئے ہیں،یہ بالکل غلط باتیں تھیں،پارلیمنٹ لاجز میں پولیس گردی اور وزیر اعظم و وزرا کی دھمکیوں کے بعدکچھ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ ان کے خلاف مقدمات قائم کرکے انہیں گرفتار کیا جائےجس پر مذکورہ اراکین اسمبلی سندھ ہاوس میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئےجن میں پی پی اور ن لیگ کے اراکین بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین نے خود میڈیا کے سامنے آنے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنی مرضی سے اور بغیر کسی لالچ کے یہاں آئے ہیں اور ہم وزیر اعظم کی پالیسیوں سے تنگ آکر ان کے خلاف ووٹ دینگے،اس اعلان کے بعد پی ٹی آئی کے کیمپ میں موجوددیگر اراکین وزیر اعظم کے خلاف ووٹ ڈالنے کیلئے آئینگے۔سعید غنی نے کہا کہ موجودہ کابینہ کو کہا جائے کہ آئندہ حکومت میں بھی یہی کابینہ ہو گی تو ساری کابینہ عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالے گی۔سندھ ہاوس میں موجود پی ٹی آئی اراکین اپنی مرضی کیساتھ باہر بھی گھوم آتے ہیں۔آج عمران خان کو پتہ چلا ہوگا کہ اپنے لوگوں کو کیسے اپنے ساتھ چلانا ہے؟انہوں نے کہا کہ وفاقی وزرا دھمکیاں نہ دیںنیازی سلطنت کا خاتمہ ہونیوالا ہے،آپ سندھ ہاوس پر حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں،ہمارے ممبرز کو زبردست روکو گے تو ہم تمھارے ممبران کو زبردستی روکیں گے،اب تم سابق وزیر اعظم کہلانے والے ہواور پھر آپ کہیں گے کہ’مجھے کیوں نکالا‘؟انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کیلئے یہ شرم کا مقام ہے کہ وہ اپنے اراکین کی جاسوسی کروا رہے ہیں،یہ آئین کی خلاف ورزی ہے،سندھ ہاوس میں دہشتگرد یا ڈاکو چھپے ہوئے ہیں کہ تم چھاپہ مارو گے،ان اراکین نے کوئی ملک دشمنی نہیں کی۔ہر صوبے کے ہاوس پر اس صوبے کی پولیس ڈیوٹی دیتی ہے،ان کو آئین ،قانون اور اخلاقیات کا پتہ ہی نہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کروائیں گے اورجس کے بعد تمام فیصلے اتفاق رائے سے کرینگے۔راجہ ریاض نے کہا ہمارے اراکین تعداد 24سے زائد ہے۔یہ اراکین وزیر اعظم کی جانب سے تہمتیں لگائے جانے پر ناراض ہیں۔ان کا خرچہ سندھ حکومت برداشت نہیں کریگی بلکہ ہم خود ادا کرینگے۔سعید غنی نے کہا کہ جو افسران حکومت کے غیر قانونی احکامات پر عمل کرینگے ان کے خلاف ایکشن لیا جائیگااور جو زبردستی کریگا اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اپنی جماعت کے خلاف ووٹ ڈالنےکے بعد اس کے خلاف ریفرنس بھجوایا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گورنر سندھ عامر لیاقت سے ملنے اس کے گھر گئے اور وزیر اعظم کیلئے مدد طلب کی تو عامر لیاقت نے کہا کہ میں نیوٹرل ہوں اور اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کا فیصلہ کرونگا۔
وفاقی وزرا دھمکیاں نہ دیںنیازی سلطنت کا خاتمہ ہونیوالا ہے، سعید غنی



