پشاور(نیشنل ٹائمز) افغان طالبان کی جانب سے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پاکستانی سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 29 اپریل 2026 کو افغان طالبان نے سرحدی علاقے میں مارٹر گولا فائر کیا جو مقامی شہریوں کریم خان اور رحمت اللہ کے گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی ہوگئے۔
میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشفاق کے مطابق ہسپتال میں تین بچوں سمیت 5 زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
متاثرہ شخص نور علی نے بتایا کہ گولہ اچانک گھر پر آ گرا جس کے باعث زور دار دھماکا ہوا جبکہ ایک اور متاثرہ شہری کے مطابق دھماکے کی شدت سے پورا گھر لرز اٹھا۔
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری میں عام شہری خصوصاً بچے نشانہ بن رہے ہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے مسلسل پاکستان کی سول آبادی کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس فتنے کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔



