غزہ(نیشنل ٹائمز)غزہ بورڈ آف پیس نے اعلان کیا ہے کہ حماس نے جنگ بندی کے اگلے مراحل پر عملدرآمد کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس کے ایکس پر بیان میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت حماس پہلی بار اپنے تمام ہتھیار مرحلہ وار چھوڑنے کے عملی منصوبے پر رضامند ہوئی ہے، حماس کے غیر مسلح ہونے کے بعد اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلا کی راہ ہموار ہوگی۔
بورڈ کے مطابق معاہدہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد طے پایا ہے، معاہدے کا مقصد غزہ میں نئی حکومت،سکیورٹی،تعمیر نو اور معاشی بحالی کو ممکن بنانا ہے، اب توجہ اس منصوبے پر عمل درآمد پر مرکوز ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے ساتھ مل کر اختیارات کی مرحلہ وار منتقلی پر کام کیا جا رہا ہے، کمیٹی کو بین الاقوامی استحکام فورس کی حمایت حاصل ہوگی۔
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہےکہ ہتھیاروں اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا پر معاہدہ طے پاگیا ہے۔
حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ثالث کردار ادا کریں، امید ہے ثالث اور بورڈ آف پیس اسرائیل کو معاہدے کا پابند بنائیں گے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاہدہ ہوگیا ہے، جیسے ہی غزہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا اسرائیلی افواج واپس چلی جائیں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب اہم قدم ہے، معاہدہ مرحلہ وار اور منظم طریقے سے نافذ کیا جائے گا بین الاقوامی استحکام فورس فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ کی ذمہ داری سنبھالے گی۔



