کوئٹہ(نیشنل ٹائمز)پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے بعد پھنسے 42 افراد میں سے 32 کی موت کی تصدیق کر دی گئی، جن کی لاشیں بھی نکال لی گئی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلہ کان میں دھماکے کے باعث متعدد کان کن پھنس گئے تھے جن کی تلاش جاری ہے، ابتدائی طور پر کان سے 18 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی تھیں، جبکہ اب مزید 14 کان کنوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔
چیف مائینز انسپکٹر عبدالغنی نے بتایا کہ کوئلہ کان سے اب تک 32 کان کنوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں، کان بیٹھنے کے باعث وہاں کام کرنے والے 34 کان کن پھنس گئے تھے، دھماکے کے بعد کان کا بڑا حصہ بیٹھ گیا تھا۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود آپریشن مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں، متاثرہ کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک رسائی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ افسوسناک واقعہ میں جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا، حادثے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔
قبل ازیں کوئلہ کان کے مالک نے میڈیا کو بتایا تھا کہ کان میں میتھین گیس کے باعث دھماکا ہوا، دھماکے کے وقت 42 مزدور تھے، کان میں پھنسے تمام مزدوروں کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے شانگلہ سے ہے۔



