بڑی آنت کے کینسر کا علاج ممکن: وقت پر تشخیص شرط ہے

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)جرمنی میں ہر سال 60 ہزار سے زائد افراد میں بڑی آنت کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ ماہرین اس عارضے کا بروقت پتا لگانے کے لیے پابندی سے معائنہ کرواتے رہنے پر زور دیتے ہیں۔یورپ کے صرف ایک ملک جرمنی میں ہر سال 60 ہزار مریضوں میں بڑی آنت کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ ان میں ایک تہائی سے زیادہ سرطان کی اس قسم کا شکار ہو کر موت کے مُنہ میں چلے جاتے ہیں۔ طبی ماہرین مریضوں کو تاکید کرتے ہیں کہ انہیں پابندی سے اسکریننگ کرواتے رہنا چاہیے۔بہت سے افراد بڑی آنت کی اسکریننگ سے کتراتے ہیں۔ ان کے لیے بڑی آنت کی نارمل نقل و حرکت اور ان سے گزر کر فُضلہ کا جسم سے خارج ہونا وغیرہ ایسے موضوعات ہیں جنہیں وہ باعث شرم اور انتہائی ناخوشگوار موضوع سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ رویہ خود ان کی اپنی صحت اور سلامتی کے لیے دُرست نہیں کیونکہ بڑی آنت کے کینسر کی اس خطرناک قسم کے بارے میں جتنی جلدی معلوم ہو جائے، اس کے کامیاب علاج کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔موذی عارضہ سرطان یوں تو ہر انسان ہی کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور اس کی ہر قسم کسی بھی عمر اور صنف کے انسان پر حملہ آور ہو سکتی ہے لیکن مردوں میں پھیپھڑوں اور پروسٹیٹ کینسر کے بعد بڑی آنت کا کینسر اموات کی تیسری بڑی وجہ بنتا ہے۔ اسی طرح خواتین کے اندر چھاتی کے کینسر کے بعد خواتین میں کینسر کی موت کی دوسری بڑی وجہ بڑی آنت کا کینسر بنتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بڑی آنت کے کینسر کی تشخیص کے فوراً بعد ہی اس کا علاج شروع نہ کیا جائے تو یہ ایک سال کے اندر اندر عام طور پر مہلک شکل اختیار کر جاتا ہے۔ بڑی آنت کے کینسر کو وقت پر پکڑ لینے اور اسے بڑھنے سے روکنے کا واحد ذریعہ کولونسکوپی معائنہ ہے۔ پولپس دراصل بلغمی جھلی میں خفیف بے ضرر ابھارسے پیدا ہونے والی چھوٹی چھوٹی گلٹیاں ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر مقعد کے ذریعے ایک اینڈو سکوپ کو آنت میں داخل کرتا ہے۔ اینڈو اسکوپ کے سرے پر لگے چھوٹے سے کیمرے کی مدد سے آنتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھ سکتا ہے۔ اس طریقہ کار سے ایسے پولپس کا بھی پتا چل جاتا ہے جو نقصان دہ یا مضر نہیں ہوتے۔ معدے کے امراض کے ماہر اس معائنے کے دوران ہی ایسے پولپس کو آنت سے دور کر سکتے اور تباہ کر سکتے ہیں اور اس طرح بڑی آنت کے کینسر کے امکانات کو کئی گنا کم کر دیتے ہیں۔ پولپس یا بلغمی جھلی میں خفیف بے ضرر ابھارسے پیدا ہونے والی چھوٹی چھوٹی گلٹیوں کو ایک بار دور کر دینے کے بعد یہ اپنی اُسی جگہ پر دوبارہ مہلک کینسر میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ شاذ و نادر ہی بڑی آنت کا کینسر براہ راست آنتوں کی بلغمی جھلی سے نشو نما پاتا ہے یا سرطان کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہوئے بغیر مہلک ٹیومر بناتا ہے۔ بڑی آنت کے کینسر کی سب سے مشکل اور خطرناک بات یہ ہے کہ سرطان کی یہ قسم اپنے ابتدائی مرحلے میں کوئی علامات ظاہر نہیں کرتی۔بڑی آنت کا نچلا حصہ یعنی قولون کا وہ حصہ جہاں سے امعا مستقیم شروع ہوتی ہے کو ریکٹم کہتے ہیں۔ اس میں ٹیومر یا رسولی بن جائے تو یہ خون بہنے کی علامت کیساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی بڑی آنت کے اس حصے کے ٹیومر کی واضح علامت خون کا بہنا ہے۔ یہ خون پاخانے میں دیکھا جا سکتا ہے تاہم دوسری بیماریاں بھی اس طرح خون بہنے کا سبب بن سکتی ہیں لیکن ان کا کارسونوما کینسر یا مہلک سرطان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ قبض یا بواسیر بھی اکثر خون بہنے کا سبب بنتا ہے۔ ایسی صورتوں میں خون نسبتاً ہلکے رنگ کا ہوتا ہے جبکہ مہلک ٹیومر یا رسولی کی موجودگی کی علامت گہرے یا سیاہ رنگ کا خون ہوتا جو بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس علامت کیساتھ ہی سرطان کا علاج فوراً سے پیشتر شروع ہو جانا چاہیے۔



  تازہ ترین   
حکومت نے پٹرول 137 روپے 23 پیسے، ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لٹر مہنگا کردیا
آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 40 سے زائد ممالک متحد ہو چکے، برطانوی سیکرٹری خارجہ
ایران کا بڑا پُل زمین بوس ہوگیا، ابھی اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے: ٹرمپ
35 واں روز: امریکا اسرائیل کی تہران، کرج، قم، تبریز اور بندر عباس پر بمباری
بنوں: تھانہ ڈومیل پر خوارج کا خود کش حملہ ناکام، بچے، خواتین سمیت 5 افراد شہید
امریکی آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا
انتونیو گوتریس کا امریکا و اسرائیل سے ایران جنگ فوری روکنے کا مطالبہ
پیٹرول 137 اور ڈیزل 184 روپے مہنگا، ملکی تاریخ کا بڑا ترین اضافہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر