لاہور(نیشنل ٹائمز)لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی اورآبی آلودگی کےخلاف کیس کی سماعت کی،پانی کے ضیاع سے متعلق واٹر کمیشن کی رپورٹ عدالت پیش کی گئی، رپورٹ کمال حیدر نے پیش کی،رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ نہ لگانے پر کمیشن نے دس شوگر ملز کو شوکاز نوٹس جاری کردئیے،ایک شوگر مل کو عدم تعمیل پرسیل کردیا گیا ہے،سیل کی گئی شوگر مل کو بیان حلفی کےبعد کھول دیا گیا،موٹر وہیکل فٹنس سرٹیفکیٹس کےحوالے سے عمل درآمد نہیں کیا جارہا، درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ گذشتہ چھ ماہ میں ماحولیاتی ادارے کےچار ڈی جی تبدیل کئے جا چکے ہیں،ڈی،جی پی ایچ اے نے عدالت کو بتایا کہ بارشی پانی کومحفوظ بنانے کے لئے بڑے بڑے حوض بنائے جارہے ہیں،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پارکوں میں زیرزمین پانی نکالنے کی بجائے جمع شدہ پانی کے استعمال کی پالیسی وضع کی جائے،زیرزمین پانی کو بچانا اہم ذمہ داری ہے،سرکاری یا نجی ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں درختوں کے کٹاو کو روکا جائے، لاہور کنکریٹ کا جنگل بن گیا مگر کسی نے گرین ہاوسز بڑھانے کی طرف توجہ نہیں دی،بلند وبالا عمارتوں کی چھتوں پرپھل دار پودے لگانے کی پالیسی وضع کی جائے،ایسے اقدامات سے درجہ حرارت میں واضع کمی آئے گی ۔ ہمارا دریا تک محفوظ نہیں رہا، ہمارے بڑوں نے جو بویا ہم وہ کاٹ رہے ہیں، ہم جو بوئیں گے ہماری نسلیں وہی کاٹیں گی، عدالت ترقیاتی منصوبوں کی زد میں آنے والے درختوں کومحفوظ بنانے کےلئے حکم جاری کرے گی،عدالت نے سموگ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
لاہورہائیکورٹ نے سموگ کے خاتمے کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کر لی ، عدالت کا زیر زمین پانی کو بچانے کے لیے اقدامات کا حکم



