اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشترنے سماجی تحفظ پر منعقدہ اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کیا۔اجلاس میں متعدد عالمی رہنما شریک ہوئے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ اجلاس کی صدارت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، جمیکاکے وزیراعظم اور ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے کی۔ اجلاس میں بیلجئیم اور مصرکے وزرائے اعظم کے ساتھ کاسٹاریکا، سلواڈور، آرجنٹینا کے صدور، نائیجیریا کے نائب صدر نے بھی خطاب کیا۔دیگر رہنماؤں میں بنگلہ دیش، سلواڈور، روانڈا ور دیگر ممالک کے وزراء اور یورپی کمشنر برائے انٹرنیشنل پارٹنرشپس بھی شریک ہوئے۔ ڈاکٹر ثانیہ نےکورونا کے تناظر میں قومی و علاقائی ترجیحات برائے روزگار اور سماجی تحفظ پر اظہار خیال کیا۔پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک کیلئے منصفانہ مالی وسائل، گرین و ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کیلئے نجی و سرکاری سرمایہ کاری، تجارتی اصلاحات اور سماجی تحفظ کیلئے مربوط اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔حکومت پاکستان کے سماجی تحفظ پروگرام احساس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کوعالمی سطح پر بطور گلوبل ماڈل تسلیم کیا گیا ہے۔اپنے خطاب کے اختتامی کلمات میں انہوں نے اقوام عالم کو دعوت دی کہ پاکستان، ترکی، نائجیریا، کاسٹا ریکا، عالمی بینک مل کر عالمی سماجی تحفظ فورم کی تشکیل کا اہتمام کر رہے ہیں جس میں اقوام عالم مل کر اپنے تجربات کی بنیاد پر سماجی تحفظ کے عالمی اقدامات کو فروغ دے سکتی ہیں۔
معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشترکا سماجی تحفظ پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب



