اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان مسلم لیگ( ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ مریم نواز کے لیے 2023نہیں بلکہ 2028موجود ہے،میری وزارت کے دوران اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ تعاون کیا اور مارشل لا ہمیشہ شخصیات کے ٹکرا ئوکی وجہ سے لگے جبکہ اسٹیلشمنٹ اور آئینی اداروں کے درمیان کوئی ٹکرا ئونہیں تھا، حکومت ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس جا رہی ہے، عدلیہ، میڈیا اور پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں اور نواز شریف ہمیشہ آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں،۔منگل کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ عدلیہ، میڈیا اور پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں اور نواز شریف ہمیشہ آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں،خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت اب دوبارہ آئی ایم ایف جارہی ہے اور آئی ایم ایف حکومت کو ایک ایجنڈا پکڑائے گی،ہم صاف انتخابات چاہتے ہیں جبکہ ایک ہی پیج پر آنا اور یہ بوجھ اٹھانا بہت مشکل ہے،انہوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات شفاف ہوئے میں ہر پولنگ اسٹیشن پر گیا کوئی مداخلت نظر نہیں آرہی تھی، ایک ہفتہ قبل حزب اختلاف کا اجلاس ہوا تھا اور اجلاس میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی بھی شامل تھی جبکہ میں ذاتی طور پر بات چیت کے حق میں ہوں اور اہم معاملات میں بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ہماری دائمی دشمنی ہے اور ہم نے افغانستان کے اندرونی معاملات میں بھی مداخلت نہیں کرنی ہے جبکہ تمام جماعتوں کا موقف بھی یہی ہے،انہوں نے کہا کہ میں کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ عدالتیں انصاف نہیں کر سکتیں کیونکہ مجھے نااہل کیا گیا لیکن عدالتوں سے ریلیف ملا،پارٹی لیڈر شپ آج بھی نواز شریف کے پاس ہے لیکن نواز شریف کو چوتھی بار وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کی کوئی خواہش نہیں ہے،خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے لیے 2023نہیں بلکہ 2028موجود ہے،مسلم لیگ ن فاشسٹ پارٹی نہیں جمہوری جماعت ہے کیونکہ فاشسٹ پارٹی وہ ہوتی ہے جہاں کوئی اختلافات نہیں ہوتے، میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہمارے تو نچلی سطح پر بھی اختلافات ہیں،انہوں نے کہا کہ اگلے انتخابات میں وزیر اعظم کا امیدوار کون ہو گا یہ فیصلہ نوازشریف کریں گے۔
مریم نواز کیلئے 2023نہیں بلکہ 2028موجود ہے، خواجہ آصف



