اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)ایف بی آر کو ریٹیلرز سکیم پر مایوس کن ردعمل ملا ہے ، صرف 1750 ریٹیلرز نے اس سے فائدہ اٹھایاجن میں محض 220 نئے فائلرز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ ختم ہونے پر ایف بی آر کو لاکھوں ریٹیلرز کی جانب سے انتہائی مایوس کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ذرائع کے مطابق فکسڈ ریٹیلرز سکیم سے صرف 1750 ریٹیلرز نے فائدہ اٹھایا جن میں صرف 220 نئے فائلرز ہیں جبکہ ایف بی آر کے اندازے کے مطابق ملک میں 40 لاکھ کے لگ بھگ ممکنہ ریٹیلرز نان فائلرز ہیں۔دوسری جانب ایف بی آر کو رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ(جولائی تا اکتوبر)میں ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں 129 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے ۔ ایف بی آر نے 4217 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں اب تک 4088 ارب روپے جمع کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پہلے چار ماہ میں ٹیکس وصولیوں میں صرف 7 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ 30 جون 2027 تک 15264 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے 17 فیصد گروتھ درکار ہے۔
ایف بی آر کے مطابق 31 اکتوبر 2026 تک مجموعی طور پر 76 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے ہیں۔ ایف بی آر نے گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں دو مرتبہ توسیع کی تھی۔ پہلی بار 30 ستمبر سے 15 اکتوبر اور دوسری بار 15 اکتوبر سے 31 اکتوبر تک مہلت دی گئی تھی۔ حکام نے واضح کیا تھا کہ 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن کے بعد گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے 30 اکتوبر تک 4061 ارب روپے جمع کیے تھے جو 31 اکتوبر کو بڑھ کر 4088 ارب روپے ہو گئے ۔ گزشتہ ماہ اکتوبر کے دوران 1002 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہوئی۔حکام کا کہنا ہے کہ ریٹیلرز کی جانب سے مایوس کن ردعمل کے بعد اب ایف بی آر کے پاس نان فائلرز پر جرمانے عائد کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ قانون کے تحت پہلے ماہ 10 ہزار، دوسرے ماہ 25 ہزار اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
جبکہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے ریٹیلرز کی دکانیں سیل کرنے کا بھی اختیار ہے ۔ایف بی آر نے ریٹیلرز سکیم کے ذریعے 50 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا جبکہ حکومت کا ارادہ تھا کہ کم از کم 2 سے 5 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تاہم کمزور ردعمل نے حکومت کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ۔ذرائع کے مطابق اب ایف بی آر نے بڑے شہروں کے پوش علاقوں کی مارکیٹوں کی جیو ٹیگنگ کرکے ممکنہ ریٹیلرز کی نشاندہی کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اگر ریٹیلرز رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہوتے تو حکومت قانون کے تحت تعمیل یقینی بنائے گی۔



