بیجنگ (شِنہوا) برقی گاڑیوں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے باعث عالمی آٹو انڈسٹری میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ایسے میں چین اور جرمنی کی صنعتوں کو درپیش ایک اہم سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی تعاون کو کس طرح وسعت دے سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے بیجنگ میں سمارٹ اور مربوط گاڑیوں کی عالمی کانفرنس (ڈبلیو آئی سی وی) 2026 منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے حکومتی اور کاروباری نمائندوں نے ٹیکنالوجی میں ہم آہنگی، معیارات کو یکساں بنانے اور منڈیوں تک رسائی جیسے امور پر بات چیت کی۔ دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ اس سلسلے میں ٹھوس پیش رفت کی اشد ضرورت ہے۔
چین اور جرمنی کے درمیان سمارٹ اور مربوط گاڑیوں (آئی سی وی) کے شعبے میں طویل عرصے سے تعاون جاری ہے۔ 2018 میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں ممالک نے برلن میں ایک مکمل اجلاس منعقد کیا، جس میں گاڑیوں کی اقسام کی منظوری، ڈیٹا ریکارڈ کرنے اور گاڑیوں کے درمیان اور گاڑیوں سے دیگر نظاموں تک رابطے کی ٹیکنالوجی جیسے عملی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جرمن ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو انڈسٹری کی صدر ہل ڈیگارڈ مولر نے کہا کہ ’’ہمیں بالکل اسی نوعیت کے تعاون کی ضرورت ہے، جو ٹھوس، عملی، ٹیکنالوجی پر مرکوز اور قابل عمل ہو۔‘‘
مولر نے سمارٹ اور مربوط گاڑیوں کی عالمی کانفرنس میں کہا کہ ’’چین نے برقی نقل و حرکت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جبکہ جرمن کار ساز کمپنیوں اور ان کے پرزہ جات فراہم کرنے والوں کو آٹوموٹو انجینئرنگ، مختلف نظاموں کو یکجا کرنے اور صنعتی پیداوار کے شعبوں میں وسیع مہارت حاصل ہے۔ دونوں ممالک کا تجربہ ایک دوسرے کے لئے اہم اور تکمیلی حیثیت رکھتا ہے، جو آٹو انڈسٹری میں تبدیلی کے عمل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
چین اور جرمنی سمارٹ اور مربوط گاڑیوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے خواہاں



