ہاربن (شِنہوا) گزشتہ 2 ماہ سے 53 سالہ ہو فینگ جون باقاعدگی سے شہر کے وسط میں واقع ایک تعمیراتی مقام کا دورہ کر رہی ہے، جہاں وہ 1930 کی دہائی میں تعمیر ہونے والی اس خستہ حال رہائشی عمارت کو دوبارہ تعمیر ہوتے دیکھ رہی ہے، جس میں وہ کبھی دیگر 14 خاندانوں کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔
صرف 2 ماہ میں 4 منزلہ نئی عمارت مکمل ہو کر رہائش کے لئے تیار ہو گئی ہے۔ یہ چین کے شمال مشرقی صوبے حئی لونگ جیانگ کے دارالحکومت ہاربن میں رہائشیوں کی اپنی مالی اعانت سے مکمل ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلا تعمیراتی منصوبہ ہے۔
ہو نے کہا کہ ’’پرانا اپارٹمنٹ چھوٹا اور خستہ حال تھا اور مجھے اس بات کی زیادہ امید نہیں تھی کہ اسی جگہ نئی عمارت تعمیر ہو سکے گی۔‘‘ تاہم انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کا محلہ اتنی بڑی تبدیلی سے گزرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’نئی عمارت کا معیار اتنا اچھا ہے کہ میں نے اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ یہاں منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘
یہ عمارت شہر کے وسط میں واقع ہے اور چین میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے اور بہترین حالت میں محفوظ باروک طرز تعمیر کے مجموعے کے قریب ہے۔ اس اہم مقام پر واقع ہونے کے باوجود یہاں رہائشی سہولیات ماضی میں انتہائی خراب تھیں۔
ہو اپنے خاندان کی 3 نسلوں کے ساتھ اب منہدم ہونے والی عمارت کے صرف 25 مربع میٹر کے ایک تنگ فلیٹ میں رہتی تھی۔ 2023 میں شہر بھر میں عمارتوں کی حفاظتی جانچ کے دوران مقامی حکام نے اس عمارت کو ڈی گریڈ قرار دیا تھا، جو خطرے کی بلند ترین درجہ بندی ہے۔ اس کے بعد حفاظتی خدشات کے پیش نظر عمارت کے رہائشیوں کو اسے خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اس منصوبے کی بنیاد اپریل میں اس وقت پڑی جب رہائشیوں نے عمارت کی ازسرنو تعمیر کے اخراجات خود برداشت کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سے قبل فروری میں مقامی حکام نے پرانی عمارتوں کی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کے طریقہ کار کی منظوری کے لئے پالیسی متعارف کرائی تھی۔ شہر کی انتظامیہ نے تعمیراتی اخراجات کم کرنے اور رہائشیوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد دینے کے لئے مختلف فیسوں میں چھوٹ اور دیگر سہولتی اقدامات بھی متعارف کرائے۔
ہو کے خاندان نے نئے فلیٹ کے لئے ایک لاکھ یوآن (تقریباً 15 ہزار امریکی ڈالر) سے زیادہ رقم خرچ کی، جو ان کے پرانے گھر کے مقابلے میں تقریباً 8 مربع میٹر بڑا ہے۔ نئی عمارت میں لفٹ، مرکزی نظام کے تحت گرمائش، پائپ لائن کے ذریعے گیس، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کا جامع نظام موجود ہے، جبکہ ہر خاندان کے لئے الگ باورچی خانہ اور غسل خانہ بھی بنایا گیا ہے۔
چین میں رہائشی سہولیات کی مسلسل بہتری نے شہری علاقوں کی خستہ حالی پر قابو پا لیا



