بیجنگ (شِنہوا) چین تجارتی خلائی صنعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنے راکٹ لانچ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور متنوع بنانے کے عمل میں مصروف ہے۔
سمندر میں قائم لانچ پلیٹ فارمز، تجارتی خلائی مراکز اور مخصوص لانچ پیڈز نجی راکٹ ساز کمپنیوں کے لئے خلائی جہازوں کو مدار میں بھیجنے کے نئے راستے کھول رہے ہیں۔
اس کی ایک نمایاں مثال رواں سال ستمبر میں سامنے آئی، جب 9 سیٹلائٹس لے جانے والے ایک تجارتی راکٹ کو شنگھائی کے قریب مشرقی بحیرہ چین میں ایک بحری جہاز سے خلا میں روانہ کیا گیا۔ اگرچہ اس گنجان آباد معاشی مرکز میں روایتی راکٹ لانچنگ کا کوئی مقام موجود نہیں تاہم سمندر سے راکٹ لانچ کرنے کی سہولت نے شنگھائی کو ملک کی بڑھتی ہوئی خلائی صنعت سے منسلک کر دیا ہے۔
چین کا پہلا سمندری راکٹ لانچ 2019 میں چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے ساحلی شہر ہائی یانگ کے قریب کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اس ساحلی شہر میں راکٹوں کی تیاری، جانچ اور لانچنگ کے لئے ایک خلائی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اس مرکز کے چیف انجینئر تینگ یاؤ نے کہا کہ سمندر سے راکٹ لانچ کرنے کا طریقہ لانچنگ کے مقامات اور راکٹ کے راستوں کے انتخاب میں زیادہ لچک فراہم کرتا ہے جبکہ راکٹ کا ملبہ بھی غیر آباد سمندری علاقوں میں گرتا ہے۔
چین کے جنوبی صوبے ہائی نان میں واقع وین چھانگ میں ایک لانچنگ مرکز موجود ہے جہاں خلائی سٹیشن کے ماڈیولز اور چاند کی تحقیق کے لئے خلائی مشنز روانہ کئے جاتے ہیں۔ اس مرکز میں 2024 سے تجارتی راکٹوں اور سیٹلائٹس کی لانچنگ کے لئے خصوصی سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں۔
دریں اثنا چین کے شمال مغربی علاقے میں جیوچھوان سیٹلائٹ لانچ سنٹر کے قریب واقع ڈونگ فینگ کمرشل سپیس انوویشن پائلٹ زون میں نجی راکٹ ساز کمپنیوں کی ضروریات کے مطابق مخصوص لانچ پیڈز تیار کئے گئے ہیں۔
چین کی تجارتی خلائی صنعت کے لئے لانچ پیڈز تک رسائی ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ نان جنگ یونیورسٹی آف ایئروناٹکس اینڈ ایسٹروناٹکس کے پروفیسر وانگ لی فینگ نے کہا کہ لانچنگ کی محدود صلاحیت، سخت شیڈول اور لانچنگ مراکز سے راکٹوں کی تیاری کے مقامات کے درمیان طویل فاصلے اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
متنوع لانچنگ سہولیات نہ صرف راکٹ لانچ کرنے کی تعداد میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ لانچنگ کے عمل کو زیادہ موثر بھی بناتی ہیں۔
خلائی صنعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لئے چین میں راکٹ لانچنگ کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع



