بیجنگ (شِنہوا)چین گزشتہ دو دہائیوں کے دوران عالمی سطح پر سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، نینو ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے میدان میں غیرمعمولی ترقی کرچکا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے طلبا تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے لیے چین کا رخ کر رہے ہیں۔انہی باصلاحیت بین الاقوامی طلبا میں لاہور سے تعلق رکھنے والے محقق ڈاکٹر محمد سلمان شامل ہے جس نے چین میں تعلیم، تحقیق اور تدریس کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ڈاکٹر محمد سلمان نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ 2013 میں اعلیٰ تعلیم اور جدید سائنسی تحقیق کے لیے چین آئے تھے۔ ان کے مطابق اس وقت چین تیزی سے عالمی سائنسی طاقت کے طور پر ابھر رہا تھا جبکہ خصوصاً سیمی کنڈکٹرز، نینو ٹیکنالوجی، فوٹونکس اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں چین کی ترقی متاثرکن تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی کیریئر کے لیے چین کا انتخاب کیا۔انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ 13 برس سے چین میں مقیم ہیں جہاں انہوں نے بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالو جی کے اسکول آف فزکس سے پی ایچ ڈی اور بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اسکول آف آپٹکس اینڈ فوٹو نکس سے پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کی اورعالمی معیار کی سائنسی تحقیق میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین میں قیام نے ان کی علمی اور پیشہ ورانہ زندگی کو مکمل طور پر تبدیل کردیا۔پاکستانی سائنسدان نے بتایا کہ ان کی تحقیق کا بنیادی مرکز آپٹو الیکٹرانکس، فوٹونکس، سیمی کنڈکٹر فزکس، نینو میٹریلز اور جدید فوٹو ڈیٹیکٹر ٹیکنالوجیز ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر گرافین بیسڈ ڈیوائسز، پیرووسکائٹ میٹریلز، کوانٹم ڈاٹس، انفراریڈ فوٹو ڈیٹیکٹرز اور سیلف پاورڈ آپٹو الیکٹرانک سسٹمز پر تحقیق کی ہے جو مستقبل کی جدید ٹیکنالوجیز میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔چینی تعلیمی نظام کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کا تعلیمی نظام تحقیق پر مبنی، جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اور صنعتی ترقی سے منسلک ہے۔پاکستانی سائنسدان نے کہا کہ چین نے گزشتہ برسوں میں تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جس رفتار سے ترقی کی ہے وہ پوری دنیا کے لیے مثال ہے۔ ان کے مطابق چین نہ صرف اپنے طلبا بلکہ دنیا بھر سے آنے والے نوجوان محققین کو بھی ترقی کے مساوی مواقع فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی و سائنسی تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا اور دونوں ممالک کے نوجوان اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پاکستانی سائنسدان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین میں حاصل ہونے والا علمی اور تحقیقی تجربہ مستقبل میں پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو اس وقت جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق، صنعتی جدت، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں تربیت یافتہ ماہرین کی شدید ضرورت ہے اور وہ اپنے تجربات اور تحقیق کو پاکستان کے نوجوانوں اور اداروں تک منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
پاک۔چین کہانیاں |پاکستانی ڈاکٹر چین میں نینو ٹیکنالوجی میں خد مات سر انجام دینے میں مصروف عمل



