بہاول پور (نیشنل ٹائمز) نائب امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب سید ذیشان اختر نے کہا کہ گزشتہ دوبرسوں میں پاکستان کے قرضہ میں بائیس فیصد اضافہ ہوا جس سے ملک کے ذمہ مجموعی قرضہ انتالیس ہزار ارب کے قریب پہنچ گیا۔ موجودہ حکومت نے سود پر قرض لینے کے سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے قرض کی ادائیگی کے لیے حکومت کو کچھ وقت ملا ہے تاہم سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اگلے برس تک سود سمیت قسطوں کی ادائیگی کے لیے بیس ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ملکی قرضہ جی ڈی پی کے اسی فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے حیرانی کا اظہار کیا کہ معلوم نہیں کن وجوہات کی بنیاد پر وزیراعظم حکومت کی پرفارمنس کو شاندارقرار دے رہے ہیں، حقیقت سب کے سامنے ہے۔غربت، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں۔موجودہ بجٹ کا بھی ایک تہائی سے زیادہ حصہ قرض کی ادائیگی کی نذر ہو جائے گا اور حالات اسی طرح رہے، تو اگلے برس ترقیاتی کاموں کے لیے خزانہ میں ایک روپیہ بھی نہیں بچے گا۔انہوںنے میڈیا ڈویلمپٹ اتھارٹی کے قیام کی حکومتی تجویز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ صحافت سے متعلق قوانین تشکیل دینے کے لیے حکومت صحافی تنظیموں سے بات کرے۔ جب تمام صحافی یونینز اور سٹیک ہولڈرز نے اس اتھارٹی کو رد کردیا ہے تو کیا جواز ہے کہ حکومت اس کے قیام پر بضد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا کا گلہ گھوٹنا چاہتی ہے، اس کے اثرات خطرناک ہونگے ۔
گزشتہ دوبرسوں میں پاکستان کے قرضہ میں بائیس فیصد اضافہ، ملک کے ذمہ مجموعی قرضہ انتالیس ہزار ارب کے قریب پہنچ گیا، سید ذیشان اختر



