گوانگ ژو (شِنہوا) چینی اور برطانوی اداروں کے محققین نے نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کے لئے ایک ایسا وائرلیس چارجنگ نظام تیار کیا ہے جس کی توانائی کی منتقلی کی کارکردگی 98 فیصد سے زیادہ ہے۔
یہ نظام خودکار گاڑیوں کے بڑے پیمانے پر استعمال میں معاون ثابت ہو سکتا ہے اور ریل ٹرانزٹ، صنعتی روبوٹس اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں جیسے شعبوں میں بھی اس کے استعمال کے امکانات ہیں۔
ایسا مکمل خودکار چارجنگ نظام جس میں انسانی مداخلت کی ضرورت نہ ہو، خودکار گاڑیوں کے تجارتی پیمانے پر استعمال کے لئے اہم سمجھا جاتا ہے۔ انڈکٹیو پاور ٹرانسفر کو اس طرح کی چارجنگ کے لئے ایک مثالی طریقہ قرار دیا جاتا ہے۔
تاہم روایتی فیرائٹ کور پر مبنی نظام کارکردگی، توانائی کی کثافت اور حرارتی استحکام کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اعلیٰ کارکردگی برقرار رکھتے ہوئے توانائی کی کثافت اور حرارتی استحکام کو بہتر بنانا وائرلیس چارجنگ ٹیکنالوجی کے لئے ایک بنیادی چیلنج رہا ہے۔
چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس) کے ماتحت ڈونگ گوان انسٹی ٹیوٹ آف میٹریلز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے سٹی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ، یونیورسٹی آف کیمبرج اور سی اے ایس کے انسٹی ٹیوٹ آف فزکس کے ساتھ مل کر نینو کرسٹل لائن مرکبات پر مبنی این ای ویز کے لئے 20 کلو واٹ درجے کا وائرلیس چارجنگ نظام تیار کیا ہے جس کی توانائی کی منتقلی کی کارکردگی 98.51 فیصد ہے۔
حال ہی میں نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی ان کی تحقیق میں مقناطیسی کور کی ایک ایسی ساخت بیان کی گئی ہے جو اوور پاس سے مشابہ ہے اور وائرلیس چارجنگ کے دوران طویل عرصے تک بلند درجہ حرارت کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کی تیار کردہ مقناطیسی کور پٹی 440 ملی میٹر لمبی، 330 ملی میٹر چوڑی اور 4 ملی میٹر موٹی ہے۔ اس کی موٹائی روایتی فیرائٹ نظاموں کے مقابلے میں صرف نصف ہے تاہم یہ زیادہ توانائی کی کثافت برداشت کر سکتی ہے۔
توقع ہے کہ نظام کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور چارجنگ کی کارکردگی میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ ڈونگ گوان انسٹی ٹیوٹ آف میٹریلز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اس ٹیکنالوجی کے صنعتی استعمال کو آگے بڑھانے کے لئے بھی کام کر رہا ہے۔
محققین نے نئی توانائی کی گاڑیوں کے لئے اعلیٰ کارکردگی کا حامل وائرلیس چارجنگ نظام تیار کرلیا



