ممبئی میں پرانی گاڑیوں کے بیچنے والے ابھیشیک جین کا بھی کہنا ہے کہ طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘مجھے لگتا ہے کہ ہر ایک اپنی حفاظت کے بارے میں فکرمند ہے۔ اسی لیے وہ ذاتی کار خریدنا چاہتے ہیں۔’
ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے کے حالیہ سروے میں کہا گیا ہے کہ ‘کمرشل گاڑیوں کے ڈیلرز پر دباؤ ہے۔ نجی گاڑیوں کے ڈیلرز کو کچھ حد تک امید نظر آ رہی ہے۔’
ٹویوٹا کرلوسکر موٹرز کے وائس چیئرمین وکرم کرلوسکر بھی اس سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘مجھے نہیں معلوم کہ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں یا نہیں۔ ہم اس صورتحال کا ماہوار جائزہ لے رہے ہیں۔’
وکرم کرلوسکر نے بی بی سی کو بتایا: ’ہماری آرڈر بک اچھی لگ رہی ہے، لیکن ہم آنے والے تین ماہ تک کوئی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔‘
کچھ عرصے قبل یہ خبریں آئیں تھیں کہ ٹویوٹا کرلوسکر انڈیا میں اپنے توسیع کے منصوبوں کو روک رہا ہے۔ تاہم وکرم کرلوسکر نے واضح کیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کے لیے موجودہ پلانٹ میں 2000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
‘کیا موٹرز انڈیا’ میں سیلز اینڈ مارکیٹنگ کے نائب صدر منوہر بھٹ کا خیال ہے کہ آٹو سیکٹر کی ترقی کا براہ راست جی ڈی پی کی ترقی سے تعلق ہے۔ اگر معیشت ترقی کرتی ہے تو لوگوں کا اعتماد بڑھتا ہے اور وہ پیسہ خرچ کرتے ہیں۔
بھٹ نے کہا: ‘اگر لوگوں کو لگے کہ ان کے پاس پیسے ہیں تو وہ گاڑیاں خریدیں گے۔ مستقبل پر تبصرہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ معیشت کی حالت بہتر نہیں ہے اور اگلے سال بھی اچھی نہیں رہے گی۔’
ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی جو مانگ ہے وہ ان گاہکوں کی طرف سے ہے جو گاڑیاں خریدنے کے منتظر تھے اور اب اپنے منصوبے کے مطابق کاریں خرید رہے ہیں۔
شو رومز کے بند ہونے کی وجہ سے رواں مالی سال کے آغاز پر مانگ میں جو کمی آئی تھی، توقع ہے کہ اگلے چھ مہینوں تک پوری ہو جائے گی۔ ونکیش گلاٹی نے کہا: ‘ہم آگے بہتری کی توقع کر رہے ہیں کیونکہ صرف سنجیدہ گاہک ہی سامان خریدنے کے لیے سامنے آئے ہیں۔’



